مراد آباد کا سفر
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۸، صفحہ ۲۳
اور پھول اور پارک کے درمیان کھڑا ہوا ہو۔ مگر تھوڑی دیر کے بعد ہی اس کی کشش ختم ہو جاتی ہے اور پھر معلوم ہوتا ہے کہے فطرت میں چھپی ہوئی تمنا دراصل آخرت کی معیاری دنیا کے لیے ہے نہ کہ موجودہ ناقص دنیا کے لیے۔
"گلاب اسٹوڈیو" کے اونچے گیٹ پر اردو، ہندی، انگریزی میں لکھا ہوا تھا: محبت خدا ہے خدا ہے محبت۔ میں نے کہا کہ محبت خدا نہیں ہے۔ البتہ یہ صحیح ہے کہ خدا محبت کو پسند کرتا ہے۔ اس نے حکم دیا ہے کہ تمام انسان ایک دوسرے کے ہمدرد اور خیر خواہ بن کر رہیں۔ مرشد آباد "چپ شاہ میاں" کے نام پر تعمیر کیا گیا ہے۔ پانچ سال پہلے ان کا انتقال مراد آباد میں ہو گیا۔ موت سے پہلے ساڑھے بارہ سال تک مسلسل وہ چپ رہے۔ اس زمانہ میں وہ صرف لکھ کر جواب دیتے تھے، اس لیے چپ شاہ میاں کہ جانے لگے۔ گلاب اسٹوڈیو (مرشد آباد) کے سپروائزر محمد نبی صاحب سے میں نے پوچھا کہ مذکورہ بزرگ چپ کیوں رہتے تھے۔ انھوں نے جواب دیا: تپسیا کے لیے۔
اسلام میں زیادہ بولنا پسندیدہ نہیں۔ مگر تپسیا یا عبادت کے لیے چپ رہنا اسلام کی تعلیم نہیں ہے۔ قرآن میں حضرت مریم کے بارہ میں ہے کہ مسیح کی پیدائش کے بعد وہ وقتی طور پر خاموش ہو گئی تھیں (مریم (۲۶) اس سے مفسرین نے یہ لیا ہے کہ یہودی شریعت میں چپ کا روزہ تھا۔ اس کے لیے بائبل کی یہ آیت پیش کی جاتی ہے : اے بنی آدم خداوند کے حضور خاموش رہو کیوں کہ وہ اپنے مقدس مسکن سے اٹھا ہے (زکریاہ ۲ : ۱۳)
یہ استدلال زیادہ طاقت ورنہیں۔ تاہم اگر یہ یہودی شریعت میں چپ روزہ رہا ہو تو یقینی طور پر وہ محدود وقت کے لیے تھا، سوہا سال تک متواتر چپ رہنا یہ الہامی شریعتوں کے مزاج کے مطابق نہیں۔ البتہ ہندو روایات میں یہ قدیم زمانہ سے آج تک پایا جاتا ہے۔ اور مسلم صوفیوں نے یقینی طور پر اس کو ہندو روایات سے لیا ہے نہ کہ قرآن وسنت سے۔ ساڑھے چھ بجے شام کو ہم لوگ مراد آباد پہنچے۔ مغرب کی نماز مراد آباد میں پڑھی گئی۔ یہاں میرا قیام لاجپت نگر کے علاقہ میں عبدالرحمن صاحب کے مکان پر تھا۔ وہ یہاں ایک بینک میں منجر ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1998 All issues