شک سے بچئے
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۸، صفحہ ۴۷
شک سے بچئے
جو لوگ آخرت کو (یا امور غیب کو) نہیں مانتے، وہ کس نفسیات کے تحت ایسا کرتے ہیں، اس کو قرآن کی سورہ نمبر ۲۷ میں بیان کیا گیا ہے۔ فرمایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ آخرت کے بارے میں ان کا علم الجھ گیا ہے۔ بلکہ وہ اس کے بارہ میں شک میں مبتلا ہیں بلکہ وہ اس سے اندھے بنے ہوئے ہیں (بل ادراك عِلْمُهُمْ فِي الْآخِرَةِ ۖ بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ مِنْهَا ۖ بَلْ هُمْ مِنْهَا عَمُونَ) النمل ٦٦ اس آیت میں اِدَّارَکَ کا لفظ بے حد اہم ہے۔ اِدَّارَکَ کی اصل تدارک ہے۔ پھر ادغام کے اصول کے مطابق ، ت کا حرف دال میں مدغم ہوگیا (لسان العرب ۱۹/۱۰) اِدَّارَکَ یا تدارک کے ابتدائی معنی ہیں باہم مل جانا۔ قرآن میں ہے کہ حتى اذا اداركوا فيها جميعا (یہاں تک جب وہ سب لوگ اس میں اکٹھا ہو جائیں گے)
مختلف چیزیں جب اکٹھا ہوتی ہیں تو اس کا ایک نتیجہ اختلاط کی صورت میں نکلتا ہے۔ یعنی چیزیں باہم مل کر گڈ مڈ ہو جاتی ہیں۔ اس طرح ادراک میں اختلاط اور گڈ مڈ ہونے کا مفہوم پیدا ہوگیا۔ مذکورہ آیت میں اس لفظ کا یہی نتیجہ والا مفہوم مراد ہے۔ یعنی آخرت کے بارہ میں مختلف رایوں کی وجہ سے ان کے اندر ذہنی الجھن کی کیفیت پیدا ہوئی جو بالآخر شک اور اندھے پن تک پہنچ گئی۔
موجودہ دنیا دار الامتحان ہے۔ اس مصلحت کی بنا پر یہاں التباس (ال انعام ۹) کا قانون جاری ہے۔ یہاں حقیقتوں کو برہنہ صورت میں نہیں لایا جاتا بلکہ ملتبس صورت میں لایا جاتا ہے۔ کوئی حقیقت خواہ کتنے ہی زیادہ دلائل کے ساتھ ثابت کر دی جائے، ایک عنصر اس میں اشتباہ والتباس کا باقی رہتا ہے۔ یہی چیز شک کا باعث بنتی ہے۔ آدمی اس شک والے پہلو کو لے کر طرح طرح کے شبہات میں مبتلا ہو جاتا ہے یہاں تک کہ ایسا ہو جاتا ہے گویا وہ اندھا ہے اور اسے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔
یہ شک کا پہلو امتحان کا تقاضا ہے۔ اس لیے وہ لازماً موجود رہے گا۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی عقل سے کام لے کر شک کے پردہ کو پھاڑے۔ اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو وہ اس دنیا میں کبھی یقین کے مقام کو حاصل نہیں کر سکتا۔
شک سے بچئے۔ شک تمام گمراہیوں کا سب سے بڑا دروازہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1998 All issues