Al-Risala · April 1998 · page 48

صبر وتقویٰ

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۸، صفحہ ۴۸

صبر وتقویٰ

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اس دنیا کی ہر چیز ہم نے جوڑا جوڑا پیدا کی ہے (الذاریات ۴۹) یہ فطرت کا ایک آفاقی اصول ہے۔ یہاں جب بھی کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے وہ دو چیزوں کے تعامل سے رونما ہوتا ہے۔ کوئی بھی چیز تنہا اس دنیا میں کوئی واقعہ یا نتیجہ ظاہر نہیں کر سکتی۔ اس اصول کا تعلق اجتماعی زندگی سے بھی ہے۔ اسی کو ایک پرانی مثل میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ ایک آدمی اپنا ہاتھ فضا میں ہلاتا رہے تو اس سے تالی نہیں بجے گی۔ تالی بجنے کے لیے ضروری ہے کہ دوسرا ہاتھ اس سے ٹکرائے۔ جب تک دوسرا ہاتھ نہ اٹھے تالی کا بجنا بھی رکارہے گا۔

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ مخالف کی ضرر رسانی کا معاملہ بھی یہی ہے ۔ مخالف کی ضرر رسانی کا ارادہ اس وقت کامیاب ہوتا ہے جب کہ فریق ثانی بھی اپنی نادانی یا سادہ لوحی سے اس کے ساتھ تعاون کا معاملہ کر بیٹھے ۔ فریق ثانی اگر ” دوسرا ہاتھ بنے سے رک جائے تو دشمن کی مخالفانہ تالی بھی بجنے والی نہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ کچھ لوگ اہل اسلام کو نقصان پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں ۔ ان کو اہل اسلام سے سخت بغض اور عداوت ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ : و ان تصبروا و تتقوا لا يضركم اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو تو كيدهم شيئا إن الله بما يعملون ان کی کوئی تدبیر تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچائے گی۔ محیط ( آل عمران ۱۲۰) جو کچھ وہ کر رہے ہیں سب اللہ کے بس میں ہے۔

اس آیت کی تشریح اس طرح کی جاسکتی ہے کہ ۔ دشمن کی سازش صرف ۵۰ فی صد کی حد تک کارگر ہے ۔ وہ اپنی تکمیل تک صرف اس وقت پہنچتی ہے جب کہ فریق ثانی اپنی کسی غلطی سے اس کے منصوبے کا بقیہ ۵۰ فی صد حصہ پورا کر دے۔ صبر و تقویٰ اس بات کی ضمانت ہے کہ اس کے منصوبے کا یہ بقیہ نصف حصہ دشمن کو حاصل نہ ہو۔ جب ایسا ہوگا تو اس کی مخالفانہ تدبیر لازمی طور پر بے نتیجہ ہو کر رہ جائے گی ۔

اس قانون کے تحت اللہ تعالیٰ نے آپ کے معاملے کو خود آپ کے ہاتھ میں دے دیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1998 All issues

Printed page