Al-Risala · January 1998 · page 24

Simple living, high thinking

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۸، صفحہ ۲۴

میرے میزبان نے مجھ سے پہلا سوال یہ کیا کہ آپ کیا کھائیں گے۔ میں نے کہا کہ میں اس اصول کو مانتا ہوں کہ سادہ زندگی اور اونچی سوچ:

Simple living, high thinking

کھانے کے معاملہ میں میرا کوئی شوق نہیں۔ اور دعوتی کھانے تو مجھے بیزاری کی حد تک ناپسند ہیں۔ جو کھانا سب سے زیادہ آسانی کے ساتھ مل جائے وہی میرا سب سے زیادہ پسندیدہ کھانا ہے۔ عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ میں علماء اور دین دار لوگ بھی سادہ کھانے کی سنت کو بالکل بھول گئے ہیں۔ لوگوں کے سفر ناموں میں اکثر پر تکلف کھانے اور شان دار ناشتے کا ذکر ہوتا ہے۔ ایسی دعوتوں سے محظوظ ہونا تو در کنار مجھے کاغذ کے صفحہ پر بھی اس کو پڑھتے ہوئے شرم آتی ہے۔ ایک دینی ماہنامہ میں ایک عالم کی صاحبزادی کی شادی کی تقریب اور ضیافت کا تفصیلی تذکرہ پڑھا۔ مذکورہ عالم کے اپنے قلم سے لکھی ہوئی اس روداد کا ایک حصہ یہ تھا: ’’نقوی صاحب کے تعلق سے شادی کی اس پر بہار محفل میں احباب نے بڑے بڑے ادبی نکتے پیش کیے۔ ایک صاحب نے انھیں کھانے کی میز پر دوستوں کے ساتھ چھپاتے ہوئے دیکھ کر علامہ اقبال کے اس شعر میں تصحیح کر ڈالی:

نشانِ مَردِ مومن باتو گویم چوں مرغ آید تبسم بر لب اوست (مرد مومن کی پہچان یہ ہے کہ اس کے سامنے بھنا ہوا مرغ پیش کیا جائے توار نے خوشی کے اس کا چہرہ دمک اٹھے) ایک دوست نے ٹوکا کہ اقبال نے "مرغ" نہیں "مرگ" کہا ہے تو ارکانِ بزم نے کہا کہ بے چارے مرغ کی مرگ ہی کے صدقے میں نقوی صاحب کو چھپانے کا موقع ملا ہے۔ زندہ مرغ کی کیا وہ چوپوخ سے مشق آزمائی کرتے (البلاغ، دسمبر ۱۹۹۵ء، صفحہ ۴۵)

مراد آباد یوپی کا ایک صنعتی شہر ہے۔ وہ رام گنگا کے کنارے واقع ہے۔ مراد آباد کو مغل حاكم رستم خاں نے ۱۶۲۵ء میں بسایا تھا۔ شہر کے شمال کا قدیم قلعہ اور جامع مسجد رستم خاں کی تعمیری یادگار کے طور پر ابھی تک باقی ہیں۔

شہری زندگی کو ایک طریقِ زندگی (way of life) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اسلام میں اجتماعیت اور منظم زندگی کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ مومنانہ زندگی شہری ہی

‹ Previous page Next page › Contents of January 1998 All issues

Printed page