Al-Risala · January 1998 · page 25

Simple living, high thinking

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۸، صفحہ ۲۵

زیادہ تر شہروں میں مسلمانوں کا ارتکاز پایا جاتا ہے۔

۹ مارچ کی شام کو عبدالرحمن صاحب کے مکان پر کئی آدمی آگئے ۔ اس طرح مجلس کے انداز میں دیر تک اسلامی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ یہ مجلس رات کو دیر تک جاری رہی۔ لوگ گفتگو میں مشغول تھے۔ اچانک باہر سے پٹاخوں کی آوازیں آنے لگیں ۔ معلوم ہوا کہ بنگلور میں ہونے والے کرکٹ میچ کے کوارٹر فائنل میں انڈیا اور پاکستان کا مقابلہ تھا، اس میں انڈیا جیت گیا ۔ چنانچہ لڑکے پٹاخہ چھوڑ کر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ۱۲ مارچ کو ایک خصوصی ہوائی جہاز پاکستانی کھلاڑیوں کو لے کر بنگلور سے لاہور پہنچا۔ تاہم وہ خود اپنے ملک کے ائیر پورٹ پر اتر نہ سکا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کوارٹر فائنل (quarter-final) میں شکست کی خبر سن کر پاکستانی نوجوان بڑی تعداد میں لاہور ایئر پورٹ پر اکٹھا ہو گئے۔ وہ سخت غصہ میں تھے اور اپنے ساتھ گندے انڈے لائے تھے تاکہ پاکستانی ٹیم کے ممبروں پر اسے پھینک کر ان کا استقبال کریں۔

اس ماحول کو دیکھ کر ذمہ داروں نے پاکستانی ٹیم کا جہاز فضا ہی سے واپس کر کے اسے کراچی بھیج دیا۔ اس کے بعد پاکستانی نوجوانوں نے ائیر پورٹ پر ہنگامہ کیا۔ انھوں نے پاکستانی ٹیم کے لیڈر وسیم اکرم کا پتلا جلایا۔ لاہور میں وسیم اکرم کے مکان پر ہم پہنچ کر اس پر پتھر پھینکے اور توڑ پھوڑ کی۔ بعد کو مسٹر وسیم اکرم نے بتایا کہ انھیں ٹیلی فون پر موت کی دھمکی مل رہی ہے۔ اس کے بعد ۱۳ مارچ کو دوسرا واقعہ ہوا۔ اس بار کلکتہ میں ولس ورلڈ کپ (Wills World Cup) کے سیمی فائنل مقابلہ میں انڈیا کی کرکٹ ٹیم کو سری لنکا کی کرکٹ ٹیم نے ہرا دیا۔ اس پرائڈن گارڈن کے اسٹیڈیم میں ہندوستانی تماشائیوں نے زبردست ہنگامہ کیا۔ سارا اسٹیڈیم اچانک توڑ پھوڑ کا منظر پیش کرنے لگا۔ اخباری رپورٹ کے مطابق، دونوں ملکوں میں کئی لوگوں نے اپنے ٹی وی سیٹ توڑ ڈالے اور پھر خود کشی کر لی۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1998 All issues

Printed page