Al-Risala · May 1998 · page 17

بے خبری

الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۱۷

بے خبری

ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان نے اقلیتی مسلمانوں کے مسئلہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا میں ۳۰۰ ملین ایسے مسلمان ہیں جو ایسے ملکوں میں رہتے ہیں جہاں غیرمسلموں کی اکثریت ہے اور اس بنا پر وہاں غیرمسلموں کا غلبہ ہے ، یہ مسلمان سخت بے یقینی کی حالت میں ہیں۔ وہ ابھی تک اپنی سمت عمل طے نہ کر سکے ۔ اس سلسلہ میں مزید وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حالت قوت (Position of strength) کے لیے تو ان مسلمانوں کے پاس ماڈل موجود ہے۔ مگر حالت فروتنی (Position of modesty) کے لیے ان کے پاس کوئی ماڈل موجود نہیں۔ یہ ایسا معاملہ ہے جس پر از سرِ نو ریسرچ کرنے کی ضرورت ہے تا کہ ان مسلمانوں کو ان کے حالات کے اعتبار سے رہنمائی دی جاسکے۔ بطور واقعہ یہ بات درست نہیں کہ اسلام کے پاس " حالت قوت " کا ماڈل ہے، اس کے پاس "حالت فروتنی " کا ماڈل نہیں۔ اسلام کی تاریخ کا ایک دور مکمل طور پر اسی دوسرے ماڈل سے تعلق رکھتا ہے ، جس کا زیادہ صحیح نام دور دعوت ہے ۔

موجودہ زمانہ کے مصلحین نے مسلمانوں کو دوبارہ اٹھانے کے لیے جو تدبیر استعمال کی ، وہ صرف یہ کہ انھوں نے ان کو ان کی " شاندار تاریخ " یاد دلائی۔ شاعر اور خطیب اور انشا پرداز قسم کے مصلحین نے یہ بات اتنی زیادہ بار کہی کہ اب وہی مسلمانوں کا شاکلہ (مزاج) بن گیا۔ چنانچہ موجودہ مسلمان ماڈل کے نام سے صرف اسلام کے دور اقتدار کو جانتے ہیں۔ وہ اسلام کے دور دعوت کو نہیں جانتے۔ یہی وجہ ہے جس کی بنا پر ہم ساری دنیا میں یہ منظر دیکھ رہے ہیں کہ مسلمان یا تو پست حوصلگی میں پڑے ہوئے ہیں ، یا سیاست کی چٹان سے سرٹکرا کر بے فائدہ طور پر اپنے کو ہلاک کر رہے ہیں مسلمان اگر دعوت کے ماڈل کو جان لیں تو ان کا المیہ اچانک طربیہ میں بدل جائے۔

مزید یہ کہ "قوت" اور " فروتنی " کا تقابل بجائے خود غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے مطابق، مسلمانوں کی ایک ہی مستقل حالت ہے۔ اور وہ حالت دعوت ہے۔ ذاتی نوعیت کی شرعی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے بعد، مسلمانوں کو جو کام کرنا ہے وہ اول و آخر دعوت ہے۔ اس کے سوا جو چیزیں ہیں وہ اصل مقصد کے اعتبار سے اضافی ہیں نہ کہ حقیقی

‹ Previous page Next page › Contents of May 1998 All issues

Printed page