اجتماعی بصیرت
الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۱۸
اجتماعی بصیرت
دنیا میں کامیاب زندگی کی تعمیر کے لئے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ حکمت ہے۔ حکمت جن بھیدوں کو بکتاتی ہے ان میں سے ایک اہم بات یہ ہے کہ کیا چیز مسئلہ ہے اور کیا چیز مسئلہ نہیں۔ آپ کس چیز کو لیں اور کس چیز کو چھوڑ دیں۔ کہاں بولیں اور کہاں چپ رہیں۔ کس معاملہ میں دخل دیں اور کس معاملہ سے اپنے آپ کو دور رکھیں۔ کتا اگر آپ پر حملہ کر دے تو آپ اس سے بچنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن اگر تا دور کھڑا ہوا بھونک رہا ہو تو آپ اس کو نظر انداز کر کے وہاں سے گزر جاتے ہیں۔ یہ فرق زندگی کا ایک حکیمانہ اصول ہے اور ہر سمجھ دار آدمی ہمیشہ اس اصول پر عمل کرتا ہے۔ اس دنیا میں کچھ باتیں قابل لحاظ ہوتی ہیں۔ اور کچھ باتیں قابل اعراض۔ دانش مند وہ ہے جو دونوں باتوں کے فرق کو جانے۔ وہ صرف انہیں باتوں کو اہمیت دے جو فی الواقع اہمیت کے قابل ہیں۔ اور بقیہ باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا سفر حیات جاری رکھے۔ جو لوگ ایسا کریں وہی اس دنیا میں کامیاب زندگی کی تعمیر کرتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ چیزوں کا فرق جانے بغیر ہر بات پر لوگوں سے الجھ جائیں، ان کے لئے صرف یہی مقدر ہے کہ وہ اپنے وقت اور اپنی طاقت کو بے نتیجہ کاموں میں ضائع کرتے رہیں اور آخر کار ناکام و نامراد ہو کر رہ جائیں۔
نادان آدمی صرف حال کو جانتا ہے، دانش مند آدمی حال کے ساتھ مستقبل کو بھی۔ نادان آدمی صرف اپنی خواہشوں سے باخبر ہوتا ہے۔ دانش مند آدمی اپنی ذات سے باہر قوانین فطرت سے بھی آگاہ ہوتا ہے۔ نادان آدمی صرف اپنے سامنے دیکھتا ہے۔ دانش مند آدمی اپنے آگے، اپنے پیچھے، اپنے دائیں، اپنے بائیں ہر طرف نظر رکھتا ہے۔ نادان آدمی کا اقدام عاجلانہ اقدام ہوتا ہے اور دانش مند آدمی کا اقدام منصوبہ بند اقدام۔ ایک سنت مکی دور کا واقعہ ہے، ابو لہب کی بیوی ام جمیل ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی