Al-Risala · May 1998 · page 19

حقیقت غالب آتی ہے

الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۱۹

تلاش میں نکلی۔ اس وقت آپ بیت اللہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ابو بکر صدیق بھی آپ کے پاس موجود تھے۔ ام جمیل شاعرہ تھی۔ اس نے آپ کی ہجو میں یہ اشعار کہے کہ ہم نے ایک قابل مذمت شخص کی نافرمانی کی۔ اس کی بات ماننے سے انکار کیا اور اس کے دین سے بیزاری ظاہر کی : مذمّماً عصینا و امره أبينا و دینه فتلینا ابن اسحاق کہتے ہیں کہ قریش نے رسول اللہ کا نام محمد کے بجائے مذمّم رکھ دیا تھا۔ وہ یہی نام لے کر آپ کے خلاف سب وشتم کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس کو سنتے تو فرماتے :

الا تعجبون لما صرف الله عنی من اذی کیا تم لوگوں کو اس بات پر تعجب نہیں ہوتا جو اللہ نے قریش - یسبون و یهجون مذمّاً قریش کی اذیت مجھ سے پھیر دی۔ وہ ایک مذمم کو و انا محمد (سیرة ابن هشام ۱/ ۳۷۹) - گالی دیتے ہیں اور اس کی ہجو کرتے ہیں اور میں تو محمد ہوں۔

یعنی جب وہ " مذمّم " کہہ کر سب وشتم کرتے ہیں تو ان کا سب وشتم اس پر واقعہ ہوگا جو مذمم ہو۔ میں مذمم نہیں ہوں۔ میرا نام تو محمد ہے۔ پھر مجھے ان کی گالیوں پر پریشان ہونے کی کیا ضرورت۔ گویا کسی کے برے لفظ پر اس کو غصہ ہونا چاہئے جس پر وہ پڑرہا ہو۔ جس کے اوپر بطور واقعہ اس کے برے الفاظ پڑنہ رہے ہوں، اس کو اسے قابل لحاظ بھی نہیں سمجھنا چاہئے۔ یہ اصول صرف حال کے لئے نہیں ہے بلکہ وہ مستقبل کے لئے بھی ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص ایک مخالفانہ ارادہ کا اظہار کرے تو ہمیں دیکھنا چاہئے کہ کیا اس کا بُرا ارادہ مستقبل میں واقع بننے والا ہے یا نہیں۔ اگر حالات کا مطالعہ بتائے کہ اس کا بُرا ارادہ عملاً وقوع میں آنے والا نہیں ہے تو ایسے ناممکن الوقوع منصوبہ کا واحد حل یہ ہے کہ اس کو نظر انداز کر دیا جائے۔ ایسی باتوں میں الجھنا دانش مند انسان کا طریقہ نہیں۔

حقیقت غالب آتی ہے

ٹائمز آف انڈیا، دوسرے تمام اخباروں کی طرح، ہر روز نئی نئی خبریں جلی حرفوں میں چھا پتا ہے۔ ان خبروں کو ہر پڑھنے والا روزانہ پڑھتا ہے۔ مگر ایک خبر جو ٹائمز آف انڈیا میں ہر

‹ Previous page Next page › Contents of May 1998 All issues

Printed page