Al-Risala · May 1998 · page 20

یہ سوچ درست نہیں

الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۲۰

رز بلاناغہ چھپتی ہے، اس کو شاید بہت کم قارئین نے پڑھا ہوگا۔ اور ایسا تو ایک بھی قاری نہیں ہوگا جو ہر روز اس خبر کو پڑھے۔ یہ ہے اس کے صفحہ اول کی پیشانی پر اخبار کے مونو گرام کے ساتھ باریک حرفوں میں لکھا ہوا یہ فقرہ کہ سچائی غالب رہتی ہے (Let truth prevail) تین لفظ کے اس جملہ میں جو بات کہی گئی ہے وہ بلاشبہ دنیا کی ایک اٹل حقیقت ہے۔ اگر صرف اس ایک حقیقت کو لوگ جانیں اور اس کو اچھی طرح پکڑ لیں تو دنیا کے بیشتر جھگڑے اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔

اطالوی فلکیات داں گلیلیو(Galileo) (Galileo) نے کو پرنیکس کے نظریہ کی حمایت کی اور کہا کہ ہماری زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ یہ رومن چرچ کے عقیدہ کے خلاف تھا۔ 1616ء میں گلیلیو کو پوپ کی عدالت میں بلایا گیا۔ اور اس کو یہ کہنے کے لئے مجبور کیا گیا کہ سورج زمین کے گرد گھوم رہا ہے۔ سزا سے ڈر کر گلیلیو نے یہ جملہ اپنی زبان سے دہرا دیا۔ مگر جب وہ عدالت سے باہر نکلا تو اس نے آہستگی سے کہا : زمین تو اب بھی سورج ہی کے گرد گھوم رہی ہے۔

فلکیاتی قوانین کو پرنیکس کے نظریہ کے حق میں تھے ۔ چنانچہ مسیحی عدالت میں گیلیلیو کے مجبورانہ بیان کے بعد بھی زمین سورج کے گرد گھومتی رہی۔ چرچ اگر یہ جانتا کہ لوگوں سے لفظی تر دید کرانے کے با وجود عملی طور پر یہی ہو گا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی رہے گی ، یہاں تک کہ ساری دنیا اس کو مسلمہ حقیقت کے طور پر مان لے تو چرچ کبھی مذکورہ قسم کی مضحکہ خیز حرکت نہ کرتا۔ یہی سچائی کا باقی رہنا ہے۔ موجودہ دنیا خود اپنے محکم قوانین پر چل رہی ہے۔ وہ کسی انسان کے الفاظ کی پابند نہیں۔ یہاں وہی ہوگا جو ہونا ہے، وہ نہیں ہوگا جو کسی نے کہہ دیا ہو ۔ اس دنیا میں زندہ رہنے کے لئے بہترین پالیسی یہ ہے کہ آپ کسی کے بولے ہوئے الفاظ کو نہ دیکھیں۔ بلکہ یہ دیکھیں کہ حقیقت ِواقعہ کیا ہے۔ کیوں کہ جو بات حقیقت و واقعہ کے مطابق نہ ہو وہ فضا میں تحلیل ہو جائے گی اور آخر کار جو چیز باقی رہے گی اور غالب آئے گی وہ حقیقت ہوگی نہ کہ کسی ایک یا دوسرے شخص کے بولے ہوئے الفاظ۔

یہ سوچ درست نہیں

میں نے حال ہی میں ایک کتاب پڑھی۔ اس کے مصنف مسٹر چترویدی بدری ناتھ (IAS)

‹ Previous page Next page › Contents of May 1998 All issues

Printed page