Al-Risala · May 1998 · page 21

یہ سوچ درست نہیں

الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۲۱

ہیں ۔ اور وہ ساڑھے تین سو صفحہ پر مشتمل ہے۔ پورا حوالہ یہ ہے:

Chaturvedi Badrinath, Dharama, India and the World Order, 1993 اس کتاب کے ایک حصہ میں انڈیا کی تقسیم پر کلام کیا گیا ہے۔ مصنف نے ملک کی تقسیم کا ذمہ دار آر ایس ایس کو قرار دیا ہے۔ آر ایس ایس کے سابق سرینچالک کی ایک کتاب 1939 میں انگریزی میں ترجمہ ہو کر چھپی تھی۔ یہ کتاب نیشن ہڈ کے بارہ میں تھی اور اس کا نام یہ تھا: We or Our Nationhood Defined ۵۵ سال پہلے چھپنے والی اس کتاب میں انھوں نے نہ صرف انڈین نیشنلزم کو ہندونیشنلزم کے ہم معنی قرار دیا تھا۔ بلکہ یہ دعویٰ کیا تھا کہ مسلمان یا عیسائی کبھی ہندوستان کا سچا نیشنلسٹ نہیں ہو سکتا کیونکہ ہندوستان کا سچا نیشنلسٹ وہ ہے جو ہندوستان کی سرزمین کو مقدس مانے چونکہ مسلمان اور عیسائی ہندوستان کو مقدس نہیں مانتے ، اس لئے وہ سچے نیشنلسٹ بھی نہیں ہو سکتے۔ انھوں نے کہا کہ ہم ہندوہی نیشنلسٹ ہیں کیوں کہ صرف ہندو ہی انڈیا کو تقدس کی نظر سے دیکھتے ہیں: Only the Hindus, We, are nationalists. For the Hindus alone look upon India as a holy land, motherland, fatherland, every particle of whose dust is sacred to them. (p. 300)

مصنف لکھتے ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ مسلم نیشنلزم ہندونیشنلزم کی جوابی پیدا وار تھا۔ پاکستان کے نظریہ کا بیج ہندو دانشوروں نے بویا نہ کہ مسلمانوں نے: The truth is that Muslim nationalism was a product, emotional and political, of Hindu nationalism with its insistence that India’s swa, or ‘one’s own,’ was Hindu. The seeds of the idea of Pakistan were sown, without knowing it, by the Hindu intellectuals and. not by the Muslims: (p. 301)

یہ صرف ایک مصنف کی بات نہیں۔ متعدد دانشوروں نے یہی بات ایک یا دوسرے انداز سے کہی ہے۔ مثلاً ڈاکٹر سیروائی ، ڈاکٹر رفیق زکریا ، وغیرہ۔ اس سلسلہ میں غالباً مولانا ابوالکلام آزاد کو اولیت حاصل ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب آزادی ہند (India wins Freedom)

‹ Previous page Next page › Contents of May 1998 All issues

Printed page