یہ سوچ درست نہیں
الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۲۲
میں اس مسئلہ پر تفصیل سے بحث کی ہے۔ اور تقسیم ملک کی ذمہ داری کانگریس رب الفاظ دیگر ہم ہندو لیڈر شپ پر ڈالی ہے۔
مولانا ابو الکلام آزاد کے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ انڈیا ایکٹ ۱۹۳۵ کے تحت ہندوستان میں ۱۹۳۷ میں ریاستوں کے الیکشن ہوئے ۔ اس سے پہلے کانگریس اور مسلم لیگ میں یہ معاہدہ ہوا تھا کہ الیکشن کے بعد دونوں پارٹیاں مل کر کولیشن گورنمنٹ بنائیں گی۔ مگر جب الیکشن ہوا تو چھ ریاستوں میں خلاف اندازہ کانگریس کو مطلق اکثریت حاصل ہو گئی۔ اس وقت کے صدر کانگریس جو نہر لال نہرو نے یہ اعلان کر دیا کہ ہم ماقبل الیکشن معاہدہ کے پابند نہیں ہیں۔ اس پر کانگریس اور مسلم لیگ میں نزاع پیدا ہو گئی۔ اس کا سب سے بڑا مظاہرہ یو پی میں ہوا جہاں کانگریس نے معاہدہ کے خلاف مسلم لیگی مسلمان کو کیبنٹ میں نہیں یا بلکہ کانگریسی مسلمان کو وزیر بنا دیا۔
یہ بات بظاہر اہم دکھائی دیتی ہے۔ مگر باعتبار حقیقت وہ ناقابل لحاظ ہے۔ کیوں کہ سیاست ہمیشہ عملی حالات کی پابند ہوتی ہے۔ سیاست کو کبھی مطلق معیار سے ناپا نہیں جا سکتا۔ حتی کہ افراد سیاست کی نیت اگر انتہائی صالح ہو تب بھی سیاست میں نظری معیار کو چلانا ممکن نہیں۔
مثال کے طور پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر جب خلافت کا مسئلہ پیدا ہواتو انصار مدینہ نے کہا کہ ایک امیر ہمارا اور ایک امیر تمہارا ۔ (منا امیر و منکم امیں) اس کے جواب میں مہاجرین مکہ نے کہا کہ دو امیر کا طریقہ ممکن نہیں ہے۔ اس لئے ہم امیر ہوں اور تم وزیر بنو ۔ (نحن الامراء و انتم الوزراء، مگر اس پر عمل نہ ہو سکا اور خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق نے اپنی آخرمعمر میں کہا کہ ہم نے انصار سے وعدہ کیا تھا کہ ہم ان کو خلافت میں وزیر بنائیں گے مگر ہم انہیں وزیر نہ بنا سکے۔
سیاست میں اس قسم کے نشیب و فراز کا پیش آنا بالکل لازمی ہے۔ اس سے کسی حال میں مفر نہیں۔ حتی کہ اگر ملک کو تقسیم کر کے اس کا ایک حصہ ایک فرقہ کو اور دوسرا حصہ دوسرے فرقہ کو دے دیا جائے تب بھی اس قسم کے خلاف معیار واقعات بہر حال پیش آتے رہیں گے۔