Al-Risala · May 1998 · page 23

یہ سوچ درست نہیں

الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۲۳

ایسی حالت میں صرف ایک ہی ممکن حل ہے کہ اس قسم کی چیزوں کو اقدام کااشو نہ بنایاجائے، بلکہ انھیں اعراض خانہ میں ڈال دیا جائے۔

مسلم لیگی لیڈر اگر فہم و بصیرت کے حامل ہوتے تو وہ کہتے کہ چلو کوئی حرج نہیں۔ آج اگر کانگریسی مسلمان وزیر بنا ہے تو کل انشاء اللہ ایسے حالات پیدا ہوں گے کہ مسلم لیگی مسلمان وزیر بنے۔ ہماری نظر مستقبل پر ہونی چاہئے نہ کہ صرف حال پر۔ اگر مسلم لیڈر شپ اس دور اندیشی کا ثبوت دیتی تو آج یقیناً تاریخ دوسری ہوتی۔

اگر اس معاملہ کے سارے پہلوؤ ں کو سامنے رکھتے ہوئے زیادہ گہرائی کے ساتھ غور کیا جائے تو یہ کہنا درست ہوگا کہ ملک کی تقسیم کی ذمہ داری مذکورہ قسم کے ہندوؤ ں پر نہیں ہے، بلکہ اس کی ذمہ داری تمام تر خود مسلمانوں کی نااہل لیڈر شپ پر ہے۔ کیوں کہ انھوں نے یہ غلطی کی کہ جو واقعہ صرف اس قابل تھا کہ اسے نظر انداز کر کے دیا جائے ، اس کو انھوں نے غیر ضروری طور پر اہمیت دی۔ حتی کہ اس کے اوپر اپنی ملی پالیسی کی بنیاد قائم کر دی۔ ایک تقابل ۱۹۴۷ سے پہلے غیر منقسم ہندوستان میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اسلام کے نام پر ایک تحریک شروع کی۔ ملک کے کچھ مسلمانوں نے ان کا ساتھ دیا۔ انھوں نے یہ نظریہ پیش کیا کہ اسلام کا مقصد خدا کی زمین پر خدا کی حکومت قائم کرنا ہے۔ اپنے عقیدہ کی رو سے مسلمان کا تعلق ہر غیر الہی نظام سے بغاوت کا ہے نہ کہ مصالحت کا۔ اسلام کا مطالبہ ہے کہ خدا کی زمین پر صرف خدا کا قانون نافذ کیا جائے۔ غیر مسلمین خدا کی زمین پر اہل اسلام کے ماتحت ہو کر رہ سکتے ہیں مگر ان کو یہ حق نہیں کہ وہ خدا کی زمین پر اپنا قانون چلائیں یا اپنا اقتدار قائم کریں۔ اب اگر ایک انتہا پسند ہندو یہ کہے کہ تقسیم کا اصل سبب یہی اسلامی تحریک ہے۔ کیوں کہ جب غیر منقسم ہندوستان میں اس قسم کی تحریک اسلام کے نام پر اٹھی اور مسلمانوں نے اس کا استقبال کیا تو ہندوؤ ں نے سوچا کہ ایسی حالت میں آزادی ہمارے لئے بے معنیٰ ثابت ہوگی۔ آج ہم انگریزوں کے غلام ہیں۔ آزادی کے بعد مسلمان اپنے عقیدے کی رو سے یہ کوشش کریں گے کہ وہ پورے ملک میں حکومت الہیہ قائم کریں جس میں ان کی حیثیت حاكم کی ہو اور ہماری حیثیت

‹ Previous page Next page › Contents of May 1998 All issues

Printed page