Al-Risala · May 1998 · page 24

یہ سوچ درست نہیں

الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۲۴

صرف ذمی یا محکوم کی۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ ملک کو تقسیم کر کی ایک حصہ مسلمان کو دیدیا جائے تاکہ بقیہ حصے پر ہم اپنی پسند کی حکومت قائم کر سکیں۔

مجھے یقین ہے کہ کوئی بھی عالم یا مسلم دانشور ہند کی اس دلیل کو نہیں مانے گا۔ وہ اس کو رد کرنے کے لئے کہے گا کہ یہ صرف چند سر پھرے مسلمانوں کا تخیل تھا نہ کہ ہندوستان کی پوری امت مسلمہ کا نظریہ۔ یہ جواب یقیناً درست ہے۔ اور میں اس سے اتفاق کرتا ہوں۔ اس پر میرا اضافہ صرف یہ ہے کہ یہی جواب خود ہندوؤں کی طرف سے بھی دیا جا سکتا ہے اور دیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ ہندونیشنلزم کی مذکورہ بات چند انتہا پسند ہندوؤں کا تخیل تھا۔ ہندوستان کی ہندو کمیونٹی نہ پہلے اس سے متفق تھی اور نہ آج اس سے اتفاق کرتی ہے۔

گویا کہ اس معاملہ میں ہند و کو مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی خود ساختہ نظریہ سازی سے اعراض کرنا تھا۔ اسی طرح مسلمانوں پر لازم تھا کہ وہ گردو اگہر کی خود ساختہ نظریہ سازی کو اعراض کے خانہ میں ڈال دیں۔ اس قسم کی باتیں ہمیشہ قابل اعراض ہو تی ہیں نہ کہ قابل لحاظ۔ مسلم خیر خواہي جو لوگ تقسیم ہند کا ذمہ دار ہندوؤں کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ ایسا کر کے صرف اپنی نادانی کا ثبوت دے رہے ہیں۔ بطور خود وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ مسلمانوں کے سر سے تقسیم کی ذمہ داری کو ہٹا رہے ہیں۔ مگر اس طرح کسی کے سر سے کوئی ذمہ داری کبھی نہیں ہٹتی۔ مسلمان تقسیم کا مطالبہ کر کے تاریخی طور پر اس کی ذمہ داری اپنے اوپر لے چکے ہیں اور پاکستان سارے عالم کو گواہ بنا کر اس کو اپنے مفاخر میں درج کر چکا ہے کہ ہندو تقسیم پر راضی نہیں تھا۔ ہمارے قائدِ اعظم نے اپنی غیر معمولی سیاست کے ذریعہ اس کو ماننے پر مجبور کر دیا۔ ایسی حالت میں کوئی دانشور ایک نکتہ نکال کر اس قائم شدہ تاریخی واقعہ کو بدل نہیں سکتا۔

حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ تقسیم کا ذمہ دار ہندوؤں کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ ایسا کر کے مسلمانوں کے خیر خواہي نہیں کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کی سچی خیر خواہی یہ ہے کہ انھیں ان کی غلطیوں کی طرف متوجہ کیا جائے تاکہ وہ آئندہ اس کو دہرانے سے بچ جائیں، جیسا کہ عرض

‹ Previous page Next page › Contents of May 1998 All issues

Printed page