Sri Lankans crush India
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۸، صفحہ ۲۶
میچ کی ہار جیت صرف ٹیموں کی ہار جیت ہے، وہ ملکوں کی ہار جیت نہے۔ مگر موجودہ زمانے میں، خاص طور پر ایشیائی ملکوں میں اس کو انتہائی غیر ضروری طور پر ملکوں کی ہار جیت بنا دیا گیا ہے۔ ہندوستان کی کرکٹ ٹیم بنگلور کے کوارٹر فائنل میں جیتی تو اس کی خبر اخباروں میں ان الفاظ میں چھپی کہ ہندوستان نے پاکستان کو ذلت آمیز شکست دی۔ اس کے بعد کلکتہ کے سیمی فائنل میں جو واقعہ ہوا تو ٹائمز آف انڈیا (۱۴ مارچ ۱۹۹۶) نے صفحہ اول کی پہلی سرخی اس طرح لگائی ــــ سری لنکا نے انڈیا کو کچل دیا :
Sri Lankans crush India
ایک مہر کے الفاظ میں، یہ اسپورٹنگ سلوک (sporting behaviour) نہیں ہے بلکہ فسادی سلوک (riotous behaviour) کا مظاہرہ ہے۔
بنگلور میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جو میچ ہوا اس موقع پر پاکستان کے اخباروں میں اس قسم کی رپورٹیں چھپی۔ گویا یہ دو ٹیموں کا کھیل نہیں ہے بلکہ دو ملکوں کی زندگی وموت کی جنگ ہے۔ مثلاً پاکستانی روزنامہ نوائے وقت (۹ مارچ ۱۹۹۶) کے صفحہ اول کی ایک رپورٹ کی سرخی یہ تھی : پاکستان آج بھارت سے ٹکرائے گا۔ اسی بات کو روزنامہ قومی آواز آواز(۱۷مارچ۱۹۹۶) کے ایک مضمون میں ان الفاظ میں ظاہر کیا گیا تھا؛ کھیل کے میدان پر قوموں کی جنگ۔ اس قسم کی سنسنی خیز رپورٹنگ ہلاکت خیز حد تک غلط ہیں۔ یہ دونوں ہی ملکوں میں رائج ہے اور اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ بنگلور کی شکست نے پاکستان کا مذکورہ حال کیا، اور اس کے بعد کلکتہ کی شکست نے ہندوستان کا۔
کھیل کی اسپرٹ یہ ہے کہ لوگ آپس میں مقابلہ کریں۔ مگر اس کے بعد وہ ہار جیت سے اوپر اٹھ کر آپس میں ایک دوسرے کے دوست بنے رہیں۔ مگر آج عملاً اس کے برعکس پیش آرہا ہے۔ کھیل کا میچ دو دشمنوں کے درمیان جنگ کے ہم معنی بن گیا ہے۔ مراد آباد سے ایک روز نامہ آئینہ عالم نکلتا ہے۔ اس کے شمارہ ۱۰ مارچ میں یہ خبر تھی کہ تھانہ کوتوالی کے تحت منڈی چوک میں بھارت کو ہندوستان کی ٹیم کو دورہ پاکستان کی ٹیم نے شکست دینے
‹ Previous page Next page › Contents of January 1998 All issues