Al-Risala · May 1998 · page 25

تقسیم کا فیصلہ

الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۲۵

کیا گیا ، اس دنیا کا کوئی سماج مذکورہ قسم کی باتوں سے خالی نبیس رہ سکتا۔ ایسی حالت میں جو لوگ ان باتوں کو اہمیت دیں وہ ہمیشہ ان میں الجھ کر اپنا نقصان کرتے رہیں گے۔ چنانچہ تقسیم کے صرف ہیں سال بعد مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان اسی قسم کی باتوں پر لڑگئے ۔ یہاں تک کہ دوبارہ پاکستان دو ٹکڑے ہو گیا۔ اس قسم کی انتہا پسندانہ نظریہ سازی کا واحد حل یہ ہے کہ ان کو خاموشی کے ساتھ نظر انداز کر دیا جائے۔

تقسیم کا فیصلہ

۲۲ مارچ ۱۹۴۰ کو لاہور میں مسلم لیگ کے سیشن میں مسٹر محمد علی جناح نے صدارتی خطبہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ مسلمان ہندوؤں کے مذکورہ ذہن کی بنا پر ان کے ساتھ مل کر نہیں رہ سکتے۔ اس لئے ضروری ہے کہ مسلمانوں کو علیحدہ ہوم لینڈ دیا جائے ۔ ردعمل کا یہ ذہن مسلمانوں میں بڑھا یہاں تک کہ ملک تقسیم ہو گیا۔

اوپر کی باتوں کو سامنے رکھ کر غور کیجئے تو مسٹر جناح کا یہ بیان صرف نادانی کا ردعمل معلوم ہوگا۔ اس کو ہرگز نہ رہنمائی کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ مسٹر جناح صرف ایک قانون داں تھے۔ اگر وہ تاریخ کو اور حقائق حیات کو جانتے تو مسلمانوں سے کہتے کہ تمہیں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ملک کے مستقبل کی تشکیل جو چیز کرے گی وہ تاریخی حقیقتیں ہیں نہ کہ گروگو لوالکر یا کسی اور انتہا پسند لیڈر کے الفاظ ۔ اس لئے تم اس قسم کے الفاظ کو نظر انداز کر دو اور عظیم ہندوستان میں اپنے لئے ایک عظیم مستقبل کی تعمیر کرو۔

اب غور کیجئے کہ عملاً ہندوستان میں کیا پیش آیا۔ شری گرو گو لوالکر نے ۱۹۳۹ میں یہ الفاظ کہے تھے۔ مگر نصف صدی سے زیادہ مدت گزرنے کے باوجود یہ الفاظ ابھی تک واقعہ نہ بن سکے۔ جیسا کہ معلوم ہے، ۱۹۴۷ میں آزادی ملنے کے بعد خود ہندو لیڈروں نے ہندو عوام کی حمایت سے ملک میں طاقت ور سیکولر گورنمنٹ بنائی۔ یہ سیکولر نظام آج تک یہاں قائم ہے اور کوئی بھی اس کو بدلنے پر قادر نہ ہو سکا۔

آزادی کے بعد ثمانينات (eighties) میں دوبارہ کچھ انتہا پسند ہندو ابھرے۔ انھوں نے ہندوتو کا نعرہ لگایا اور کہا کہ ہندوستانی نیشنلزم کلچرل نیشنلزم کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1998 All issues

Printed page