Al-Risala · May 1998 · page 26

تقسیم کا فیصلہ

الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۲۶

مسلم رہنماؤں ار دانشوروں نے دوبارہ اس کے مقابلہ میں سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ مسلمانوں کو ہندو کلچر میں رنگنے کی ایک سازش ہے۔ ممگر عملاً کیا پیش آیا۔ دوبارہ یہی ہوا کہ ہندو تو کے لیڈروں کے بولے ہوئے الفاظ و واقعہ نہ بن سکے۔ انھوں نے اپنے کو کامیاب بنانے کے لئے مندر۔ مسجد کے نام پر انتہائی جذباتی تحریک چلائی۔ اس کے لئے انھوں نے اپنی ساری طاقت خرچ کر ڈالی مگر ۱۹۹۳ کے الیکشن میں دنیا نے دیکھا کہ کلچرل نیشنلزم کے علمبردار سارے ملک میں زبردست سیاسی ناکامی سے دوچار ہوئے ہیں۔ اپنے نظریہ کے حق میں انھیں خود ہندو ووٹروں کی تائید بھی حاصل نہ ہو سکی۔

ہندونیشٹلم یا کلچرل نیشنلزم کا نظریہ کیوں انڈیا میں ناکام ہو گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ ہندوستانی نظریہ عالمی قومی نظریہ سے ٹکرا رہا تھا۔ اور اس معاملہ میں کسی ملک کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ نیشن ہڈ کے لئے انٹر نیشنل معیار کے سوا کوئی اور معیار اپنے لئے مقرر کرے۔ اگر کوئی ملک اس معاملہ میں علیحدہ معیار مقرر کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کا معیار عملاً چلنے والا نہیں۔

تقدیس ملک کا تصور کچھ افراد کا مذہبی عقیدہ ہو سکتا ہے گر نیشن ہڈ کے مسئلہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ عالمی معیار کے مطابق، نیشن ہڈ کی بنیاد اشتراک وطن پر ہے نہ کہ کسی تقدیسی عقیدہ پر۔ اور انڈیا میں بھی یقینی طور پر، ہمیں اس عالمی معیار کو ماننا ہو گا۔ اگر نیشن ہڈ کے مذکورہ تقدیسی معیار کو صحیح قرار دیا جائے تو ساری دنیا کے لوگوں کے لئے فرض کرنا پڑے گا کہ وہ اپنے دیش کے غدار ہیں۔ کیوں کہ کسی بھی ملک میں تقدیس وطن کا تصور موجود نہیں۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ دوسرے ملکوں میں اعلیٰ درجہ کی حب الوطنی (patriotism) موجود ہے اور اسی لئے وہ ممالک ترقی کر رہے ہیں۔

یہی معاملہ کلچرل نیشنلزم کا ہے جو مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ عالمی ذہن سے ٹکرا رہا ہے۔ دنیا میں اس معاملہ میں غالب قومی نظریہ ملٹی کلچر نیشنلزم کا ہے۔ اور ہندوستان میں کچھ لوگ اس کے خلاف یونی کلچر نیشنلزم کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ ایسی خلاف زمانہ کوشش کیسے کامیاب ہو سکتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1998 All issues

Printed page