دین کے نام پر بے دینی
الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۳۲
کیا۔ اس نے اللہ اکبر کا کلمہ اپنی زبان سے ادا کر کے یہ اعتراف کیا کہ میں چھوٹا ہوں، بڑائی اور عظمت سب کی سب ایک ذوالجلال والاکرام کو حاصل ہے مسجد میں اللہ اکبر کی تکرار ، اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک انفرادی اور نفسیاتی عمل ہے نہ کہ سیاسی اور حکومتی عمل ۔ یہ ایک موجود عظمت کا اقرار کرنا ہے نہ کہ غیر موجود عظمت کو نافذ اور قائم کرنا ۔ تکبیر رب کا حکم قرآن میں متعدد مقام پر آیا ہے۔ کہیں اسی خاص لفظ میں اور کہیں دوسرے الفاظ میں ۔ اس سلسلہ میں قرآن کے چار مقامات یہ ہیں۔ البقرة ۱۸۵، الحج ۳۷، الاسراء ۱۱۱ ، المدثر ۳۔
ان چاروں آیتوں میں تکبیر رب کا حکم آیا ہے۔ مگر تمام مفسرین نے بالاتفاق یہاں ”اللہ اکبر“ کہنا مراد لیا ہے۔ قرآن میں جہاں بھی کبیر یا تکبیر کا لفظ ہے ، اس کا مطلب مفسرین کے نزدیک یہ ہے کہ ”اللہ اکبر کہو“۔ تاہم کہنے کا مطلب مجرد کلمہ تکبیر کا تلفظ نہیں ہے بلکہ حقیقت تکبیر کا قلبی اعتراف ہے۔ زبان سے اللہ اکبر کہنا در اصل اس بات کا ظاہری اعلان ہے کہ بندہ نے خدا کو اپنا کبیر بنا لیا ہے اور اس کے مقابلہ میں وہ اپنے کو صغیر بنانے پر راضی ہے۔ اللہ اکبر کو قائم کرنے کا محل انسان کے اپنے اندر کی روح ہے نہ کہ کوئی باہر کا ملک یا خارجی زمین ۔ اس کا تعلق آدمی کے ایمان سے ہے۔ ایمان ایک شعوری دریافت ہے۔ ایمان یہ ہے کہ آدمی مظاہرِ کائنات کے پیچھے حقیقت کائنات کو پالے۔ وہ تخلیق سے گزر کر اس کے خالق کا جلوہ دیکھ لے۔ وہ واقعہ میں صاحب واقعہ کے وجود کا مشاہدہ کرلے۔
اللہ اکبر اسی ایمانی دریافت کا ایک اظہار ہے۔ ایمان آدمی کو ایک عظیم خدا سے متعارف کراتا ہے وہ آدمی کو توحید کی حقیقت سے آشنا کرتا ہے۔ اس وقت آدمی کی زبان سے کلمہ اعتراف نکل پڑتا ہے وہ یہی اللہ اکبر ہے۔ اللہ اکبر کا مطلب خدا کی بڑائی کے مقابلہ میں اپنے آپ کو چھوٹا بنانا ہے۔ اللہ اکبر کے کلمہ کی تکمیل یہ نہیں ہے کہ زمین کے اوپر شریعت کا دیوانی اور فوجداری قانون نافذ ہو جائے۔ اللہ اکبر کے کلمہ کی تکمیل یہ ہے کہ آدمی کی زبان سے جب اللہ اکبر نکلے تو اس کی روح بے اختیار ہو کر کہہ اٹھے کہ انا اصغر (میں چھوٹا ہوں) ”تکبیر رب“ کے سلسلہ میں مفسرین کی تشریحات نہایت واضح ہیں۔ ہر ایک نے اس کو نفسیاتی معنی میں لیا ہے نہ کہ سیاسی معنی میں۔ یہاں نمونہ کے طور پر چند مفسرین کی تشریحات نقل کی جاتی ہیں :