Sri Lankans crush India
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۸، صفحہ ۲۷
زخمی ہوئے۔ شہر میں جیت کی خوشی میں پٹاخے چھوڑے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ نوجوان نعرے بازی کرتے ہوئے جلوس کی شکل میں دوسرے فرقہ کے محلے کی جانب بڑھ رہے تھے۔ اس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔
ایک اردو ہفت روزہ کا شمارہ ۱۴مارچ ۱۹۹۶ دیکھا۔ اس کے صفحہ اول پر ایک خبر تھی۔ اس کی سرخی لال رنگ میں اس طرح چھپی ہوئی تھی؛ فرقہ وارانہ فسادات کی سازش۔ میں نے جناب عبدالرحمن مرادآبادی (۳۶سال) سے کہا کہ اس سرخی پر تبصرہ کیجئے ۔ انھوں نے کہا؛ جب سازش کا پتہ لگ گیا تو فوراً اس کو ناکام کرنے کی کوشش کرنا چاہیے ۔ سازش سازش کا شور مچانے سے کیا فائدہ۔
عبدالرحمن صاحب مراد آباد کے ایک بینک میں مینیجر ہیں۔ ان کا یہ تبصرہ فطرت کا تبصرہ تھا، مصلح اگر سنجیدہ ہے تو یقیناً وہ یہی کرے گا کہ سازش کا علم ہونے کے بعد وہ اس کو ناکام کرنے کی تدبیر کرے گا۔ جب وہ اپنی حکیمانہ تدبیر کے ذریعہ اس کو ناکام کر چکا ہوگا تو اس وقت وہ دنیا کو بتائے گا کہ دیکھو، یہ ہے سازش کو ختم کرنے کا طریقہ۔ مراد آباد کے ایک صاحب نے بتایا کہ یہاں کے ایک تعلیم یافتہ نے امریکہ کا سفر کیا۔ واپسی کے بعد میں نے پوچھا کہ امریکہ اور ہندوستان میں آپ نے کیا فرق دیکھا۔ انھوں نے کہا؛ وہاں خدا کا گناہ ہے، یہاں بندوں کا گناہ ۔ وہاں کے لوگ خدا کے حکم کو توڑتے ہیں، مگر وہ انسان کو نہیں ستاتے۔ یہاں کے لوگ خدا کے حکم کو تو مانتے ہیں، مگر وہ انسان کو ستانے سے باز نہیں آتے۔
ایک صاحب نے سوال کیا کہ منافقت کیا ہے۔ میں نے کہا کہ منافقت نام ہے ڈبل کریڈٹ لینے کا۔ مثلاً آپ جہاد کی باتیں کریں مگر عملی طور پر جہاد میں شریک نہ ہوں۔ زبان سے اپنے آپ کو جہاد پسند بتائیں اور عملاً اپنے آپ کو اور اپنے بیٹوں کو جہاد کے میدان سے دور رکھیں۔
غلام مصطفیٰ رحیمی (۶۲ سال) نے بتایا کہ میں الرسالہ کے اس نظریہ سے مکمل طور پر متفق ہوں کہ فرقہ وارانہ فسادات کا قابل عمل حل صرف ایک ہے، اور وہ صبر اور حکمت ہے۔ اس
‹ Previous page Next page › Contents of January 1998 All issues