Al-Risala · May 1998 · page 46

Slavery or freedom, choose between the two.

الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۴۶

کسی نے میری تائید نہیں کی۔ ایک ہندو پروفیسر نے اپنی لمبی تقریر میں شدت کے ساتھ اس کھنڈن کیا۔ مگر فروری ۱۹۹۸ آیا تو تاریخ بدل چکی تھی ہندوستان کے جنرل الیکشن (فروری۔ مارچ ۱۹۹۸) میں حالات کا ایسا شدید دباؤ پیش آیا جس کے مقابلے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو اپنا سیاسی وجود خطرہ میں نظر آنے لگا۔ ۱۹۹۳ میں انھوں نے جس بات کو دلیل کے ذریعہ نہیں مانا تھا، ۱۹۹۸ میں انھوں نے اس کو سیاسی دباؤ کے تحت مان لیا۔ چنانچہ مارچ ۱۹۹۸ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے جونیا نیشنل ایجنڈاشائع کیاگیا ہے اس میں ہند تو کا لفظ حذف کر کے سیکولرزم کا لفظ لکھ دیا گیا ہے اگرچہ شرمندگی مٹانے کے لیے اس میں سیکولرزم کے بجائے جینوئن سیکولرزم تحریر کیا گیا ہے۔

۱۹۹۰ کے آخر میں جب بارھویں لوک سبھا کے الیکشن کا چرچا شروع ہوا تو میں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈروں کو یہ پیغام دیا کہ آپ لوگ اپنے الیکشن مینی فیسٹو میں تین نزاعی اشو( کامن سول کوڈ، ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر ، دفعہ ۳۷۰) کو شامل نہ کیجئے ۔ آپ لوگ اپنے مینی فیسٹو میں صرف ان اشوز کو لیجے جونیئشنل اشوز کی حیثیت رکھتے ہیں مگر اس وقت وہ لوگ اتنے جوش میں تھے کہ میری بات انھیں قابل لحاظ نظر نہ آئی ۔ چنانچہ انھوں نے جو طویل مینی فیسٹو شائع کیا اس میں ان تینوں اشوز کو شامل کر دیا۔ مگر جب وہ الیکشن کے میدان میں اترے تو انھیں محسوس ہوا کہ وہ تنہا الیکشن کو جیت نہیں سکتے۔ چنانچہ انھوں نے دوسری پارٹیوں سے گفت و شنید شروع کی اور ۱۳ پارٹیوں کو ساتھ لے کر ایک متحدہ محاذبنا یا یہ پارٹیاں صرف اس شرط پر اتحاد میں شرکت پر راضی ہوئیں کہ مذکورہ تینوں ایشوز کو مینی فیسٹو سے نکال دیا جائے۔ چونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس کوئی اور متبادل موجود نہ تھا، وہ اس حذف پر راضی ہوگئی۔ دوبارہ یہی ہوا کہ جن لوگوں کے لیے دلیل کی منطق ناکافی ثابت ہوئی تھی عملی دباؤ کی منطق نے ان کو جھکنے پر مجبور کر دیا۔

یہ پچھلے تقریباً سو سال کی سیاسی تاریخ کا خلاصہ ہے۔ ہمارے سے لیڈر، ہندو اور مسلمان دونوں بار بار سیاسی بصیرت کے میدان میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ پیش بینی اور دور اندیشی کا کامیاب قیادت کی لازمی صفات ہیں مگر اس امتحان میں ہمارا کوئی بھی لیڈر پورا اترتا نظر نہیں آتا، نہ کوئی ہندو اور نہ کوئی مسلمان۔ یہی وجہ ہے کہ سو سال کی ہنگامہ آرائیوں اور اُن گنت قربانیوں کے باوجود ابھی تک وہ ہندوستان نہ بن سکا جس کا خواب ملک کے درد مند لوگوں نے دیکھا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1998 All issues

Printed page