Slavery or freedom, choose between the two.
الرسالہ، مئی ۱۹۹۸، صفحہ ۴۹
کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق اس سے تھا کہ زندگی کیا ہے اور انسانی زندگی کا مقصد کیا ہے۔
ہفت روزہ پانچ جنیہ کے سب ایڈیٹر مسٹر شرمانے، اما رچ ۱۹۹۸ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ہندوستان کے مسلمان آج بھی دیش کی مکھی دھارا میں ہیں۔ مگر اخباروں میں چونکہ مثبت خبروں کی رپورٹنگ بہت کم ہوتی ہے اس لیے لوگوں کو اس واقعہ کی خبر نہیں۔ لوگ اتنا ہی جانتے ہیں جتنا اخبار میں چھپتا ہے ۔ حالانکہ اخبار میں جو کچھ چھپتا ہے وہ اصل سماجی صورت حال کا مشکل ایک فیصد ہوتا ہے۔
ٹائمس آف انڈیا (نئی دہلی) نے مرکز میں نئی پارٹی کی حکومت کے قیام پر مختلف لوگوں کے انٹرویو لیے ۔ اس بارے میں اس نے صدر اسلامی مرکز کا بھی انٹرویو لیا۔ یہ اخبار کا شمارہ ۲۲ مارچ ۱۹۹۸ میں اسپشل رپورٹ کے تحت شائع کیا گیا ہے ۔ صدر اسلامی مرکز کے ایک جواب کو اخبار نے ان الفاظ میں نقل کیا ہے :
Unlike the general impression Maulana Wahiduddin dismisses the suggestion that Muslims are a scared lot under the BJP regime. “The BJP is like a caged lion. It can roar but can do no harm because of historical, political, economic, social and international compulsions. And, more important, because the majority of the majority community is extremely secular” says the Maulana (p. 19)
رہتک (دیانند مٹھ) میں ۲۵ مارچ ۱۹۹۸ کو آریہ سماج کی طرف سے ایک جلسہ ہوا۔ اس کا موضوع ـــــــ شراب بندی تھا۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی۔ اور وہاں شراب کے بارے میں ایک تقریر کی ۔ انھوں نے بتایا کہ شراب کو اسلام میں ام الخبائث قرار دیا گیا ہے، یعنی تمام برائیوں کی جڑ۔ کسی سماج کو اگر برائیوں سے پاک کرنا ہے تو اس کے اندر سے شراب نوشی کو ختم کرنا ضروری ہے۔ ایک نئی کتاب تیار ہوئی ہے۔ یہ سیرت کے موضوع پر ہے اس میں سیرت کا علمی مطالعہ کیا گیا ہے ۔ ان شاء اللہ مطالعہ سیرت کے نام سے شائع ہوگی۔ دو اور کتابیں زیر طبع ہیں ــــ اسلام کیا ہے، سفر نامہ اسپین و فلسطین ۔