Al-Risala · June 1998 · page 9

فرصت عمل

الرسالہ، جون ۱۹۹۸، صفحہ ۹

فرصت عمل

جب بھی زیادہ لوگ ساتھ مل کر زندگی گزاریں گے تو ان کے درمیان شکایت اور اختلاف کے واقعات بھی ضرور پیدا ہوں گے۔ ایسا ایک گھر کے اندر ہوگا، سماج کے اندر ہوگا، پورے ملک میں ہوگا، اور اسی طرح بین اقوامی زندگی میں بھی ہوگا۔ انسان خواہ جس سطح پر بھی ایک دوسرے سے ملیں اور تعلقات قائم کریں، ان کے درمیان ناخوش گوار واقعات کا پیش آنا بالکل لازمی ہے۔ ایسی حالت میں کیا کیا جائے، ٹالرنس اسی سوال کا جواب ہے۔ ایسی حالت میں ایک شخص دوسرے شخص کے ساتھ اور ایک گروہ دوسرے گروہ کے ساتھ رواداری اور برداشت کا معاملہ کرے۔ مل جل کر زندگی گزارنے اور مل جل کر ترقی کرنے کی یہی واحد قابل عمل صورت ہے۔ اس اسپرٹ کے بغیر انسانی تمدن کی تعمیر اور اس کی ترقی ممکن نہیں۔

ٹالرنس کوئی انفعالی رویہ نہیں۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی کے لیے زیادہ بہتر چوائس لینے کا موقع تھا اور اس نے کمتر چوائس کو اختیار کر لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں اس کے سوا کوئی اور چوائس ہمارے لیے ممکن ہی نہیں۔ ٹالرنس ہماری ایک پریکٹیکل ضرورت ہے نہ کہ انفعالی پسپائی۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک صورت حال کو اپنے لیے ناخوش گوار پا کر اس سے لڑنے لگتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میری جد و جہد موجودہ صورت حال کو ہٹا کر دوسری زیادہ پسندیدہ صورت کو لانے کی جد و جہد ہے۔ مگر جب موجودہ صورت حال ختم ہوتی ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ دوسری صورت حال میں بھی دوبارہ اسی قسم کا ناخوش گوار پہلو موجود ہے جس کو برداشت نہ کرنے کی بنا پر وہ اس سے لڑ گیا تھا۔

ٹالرنس کا طریقہ ہم کو فرصت عمل دیتا ہے۔ اس کی وجہ سے یہ ممکن ہوتا ہے کہ ہم ناموافق حالات سے ایڈجسٹ کر کے اپنی زندگی کا سفر جاری رکھیں۔ اس کے برعکس اگر ہم ٹالرنس کو چھوڑ دیں اور جو چیز بھی ہم کو ناموافق نظر آئے اس سے لڑنے لگیں تو اس کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ ہم ایک چیز کو ”برائی“ کے نام سے ختم کریں گے، صرف اس لیے کہ اس کے بعد ایک اور شدید تر برائی میں اپنے کو مبتلا کر لیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1998 All issues

Printed page