تغير منکر
الرسالہ، جون ۱۹۹۸، صفحہ ۱۰
تغير منکر
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : من رأى منکم منکراً فليغيره بيده (صحیح البخاری) یعنی تم میں سے جو شخص منکر کو دیکھے تو وہ اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے۔ اب ایک اور حدیث دیکھئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا کہ قریش نے جب کعبہ کی دوبارہ تعمیر کی تو انھوں نے اس کو ابراہیمی بنیاد سے گھٹا کر بنایا۔ حضرت عائشہؓ نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! آپ اس کو ابراہیمی بنیاد کی طرف کیوں نہیں لوٹا دیتے ۔ آپ نے فرمایا کہ اگر قریش ابھی نئے نئے مسلمان نہ ہوئے ہوتے تو میں ایسا کر دیتا (فتح الباری ۵۱۳/۳) ان دونوں حدیثوں کا تقابلی مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تغیر منکر کا حکم مطلق معنوں میں نہیں ہے بلکہ وہ ایک مقید حکم ہے۔ اگر وہ کوئی مطلق حکم ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور ایسا کرتے کہ مشرکین مکہ نے کعبہ کی تعمیر ثانی میں جو تبدیلی کی تھی اس کو ختم کر کے دوبارہ اس کو حضرت ابراہیم کی ابتدائی اساس پر کھڑا کرتے۔
اس تقابلی مطالعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ تغیر منکر میں صرف استطاعت" ہی کی شرط" نہیں ہے بلکہ حکمت کی شرط بھی ہے۔ فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرب کے حکمراں ہوچکے تھے۔ آپ کو یہ استطاعت حاصل ہو چکی تھی کہ آپ کعبہ کو ڈھاکرا سے ابراہیمی بنیا د پر تعمیر کر دیں۔ مگر آپ نے استطاعت کے باوجود ایسا نہیں کیا ، کیوں کہ ، حدیث کے الفاظ میں ، ایسا کرنا حکمت کے خلاف ہوتا۔
تغیر منکر کے حکم کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آدمی جب کسی منکر کو دیکھے تو فورا اس کے خلاف اقدام شروع کر دے ۔ اجتماعی زندگی میں کوئی اقدام صرف برائی کو دیکھ کر نہیں کیا جاتا بلکہ حالات کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ مومن پر لازم ہے کہ جب وہ کسی منکر کو دیکھے تو اس کے خلاف اقدام سے پہلے یہ سوچے کہ میرے اندر اس کی حقیقی استطاعت ہے یا نہیں ، اور اگر بظاہر استطاعت ہو تب بھی ایسا کرنا حکمت کے مطابق ہے یا نہیں ۔ استطاعت اور حکمت کی دوگونہ شرط کا لحاظ کیے بغیر تغیر منکر کے لیے اٹھنا فساد ہے نہ کہ اسلامی حکم کی تعمیل ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1998 All issues