دوقسمی طرزِ فکر
الرسالہ، جون ۱۹۹۸، صفحہ ۱۱
دوقسمی طرزِ فکر
بیسویں صدی کے نصف اول میں کمیونسٹ دنیا کا عام طرزِ فکر یہ تھا کہ جو ہمارے ساتھ نہیں وہ ہمارا دشمن ہے۔ اس طرزِ فکر کو نفسیات کی اصطلاح میں دوقسمی طرزِ فکر (dichotomous thinking) کہا جاتا ہے۔ یہ طرزِ فکر ہلاکت خیزی کی حد تک غلط ہے چنانچہ تقریباً پچاس سال تک تمام کمیونسٹ اس حماقت میں مبتلا رہے کہ جہاں انھیں اقتدار حاصل تھا وہاں وہ ہر غیر ساتھی کو تہہ تیغ کرتے رہے۔ سابق سوویت یونین میں انھوں نے ۲۵ ملین انسانوں کو ذبح کر ڈالا اور بے شمار خاندانوں کی زندگیاں تباہ کر دیں۔
اس کے علاوہ جن ملکوں میں انھیں اقتدار حاصل نہ تھا وہاں انھوں نے اپنے غیر ساتھیوں کے خلاف لا متناہی قسم کی لفظی جنگ چھیڑ دی۔ تمام غیر ساتھیوں پر جھوٹی تنقیدیں کرنا، ان کی کردار کشی کرنا، ان کے خلاف جھوٹا لٹریچر چھاپنا، ان کے خلاف ہر الزام کو اپنا حق سمجھ لینا، یہ ان کا شیوہ بن گیا۔ اس راہ میں انھوں نے اپنی بہترین صلاحیت اور بہترین اثاثہ کو ضائع کر دیا۔
یہ طرزِ فکر سراسر غیر فطری ہے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ انسان کی سوچ میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ آج وہ ایک ڈھنگ پر سوچتا ہے اور کل وہ دوسرے ڈھنگ پر سوچنے لگتا ہے۔ معلومات میں اضافہ اور نئے دلائل سے واقفیت، اس طرح کے اسباب آدمی کے ذہن کو ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں۔ انسان کوئی جامد اسٹیچو نہیں ہے۔ وہ ایک زندہ ہستی ہے۔ وہ بار بار خارجی اثرات کو قبول کرتا ہے۔ کوئی انسان یا کوئی گروہ اگر بظاہر آپ کا مخالف نظر آئے تو آپ اس کو مستقل طور پر اپنا مخالف نہ سمجھ لیجیے بلکہ اس کی مخالفت کو کم علمی یا غلط فہمی پر محمول کیجئے۔ اگر آپ ایسا کریں تو اس کا فطری نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کے بارے میں آپ کے اندر ہمدردی کی کیفیت پیدا ہو جائے گی۔ آپ اس سے دور ہونے کے بجائے اس سے قریب ہونے کی کوشش کریں گے۔ اس کے معاملے پر غیر جانب دارانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے اس کو سمجھانے کی کوشش کریں گے۔ اس کے بعد، قرآن کے الفاظ میں، آپ دیکھیں گے کہ جو شخص بظاہر آپ کا دشمن نظر آتا تھا وہ آپ کا قریبی دوست بن گیا (فإذا الذي بينك وبينه عداوة كأنه ولي حميم)
‹ Previous page Next page › Contents of June 1998 All issues