Sri Lankans crush India
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۸، صفحہ ۲۹
ہی نہیں۔ پھر کون ہے جو اس کو رد کر سکے۔
مراد آباد کی ایک سڑک پر چلتے ہوئے ایک چھوٹے سے پارک پر ایک تختی لٹکی ہوئی نظر آئی۔ اس پر لکھا تھا: جگر ایکشن کمیٹی۔ اس کو دیکھ کر یاد آیا کہ مشہور شاعر جگر اسی مراد آباد کے رہنے والے تھے۔ ابتداء وہ عینک بیچتے تھے۔ پھر ایک ذاتی حادثہ نے انہیں شاعر بنا دیا۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا میں دیکھ رہا تھا کہ اس میں جگر کے بارہ میں کچھ ہے۔ اس میں جگر کا نام تو نہیں تھا، البتہ وہاں "جہاد" کا لفظ نظر پڑا۔ جہاد کی تشریح میں اس کا پہلا جملہ یہ تھا کہ جہاد ایک مذہبی ذمہ داری ہے جو مسلمانوں پر اس لیے عائد کی گئی ہے کہ وہ جنگ کے ذریعہ اسلام کی اشاعت کریں :
Jihad, religious duty imposed on Muslims to spread Islam by waging war. (V/558)
جہاد کا یہ تصور اسلام کو ایک جنونی مذہب ثابت کرتا ہے ، مگر اس کے ذمہ دار مستشرقین نہیں ہیں بلکہ موجودہ زمانہ کے وہ نام نہاد اسلامی مفکرین ہیں جنھوں نے اسلام کی جنگی تفسیر کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم نو جوان ساری دنیا میں لڑنے بھڑنے لگے اور اس طرح دوسروں کو اسلام کی غلط تصویر کشی کا موقع مل گیا۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ مسلمانوں کو صبر کی تلقین کرتے ہیں۔ حالانکہ اسلام میں ظلم کو برداشت کرنا گناہ ہے۔ میں نے کہا کہ میں تو اپنی بات کے لیے ہمیشہ آیت اور حدیث نقل کرتا ہوں۔ آپ بتائیے کہ قرآن وحدیث میں کہاں یہ لکھا ہوا ہے کہ ظلم کو برداشت کرنا گناہ ہے۔ وہ کوئی آیت یا حدیث پیش نہ کر سکے۔ تا ہم ان کی بحث جاری رہی۔ آخر میں میں نے کہا کہ یہ بات اگر آپ اسلام کے حوالے سے فرمارہے ہیں تو اس کی کوئی دلیل آپ کے پاس نہیں۔ اس لیے آپ کو چاہیے کہ آپ اسلام کا لفظ نہ بولیں بلکہ خود اپنی بات کے طور پر اسے بیان کریں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1998 All issues