Sri Lankans crush India
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۸، صفحہ ۳۰
مراد آباد میں میرا قیام لاجپت نگر میں تھا۔ یہ ایک نئی کالونی ہے اور اس کے بیشتر رہنے والے ہندو لوگ ہیں۔ یہاں صاف ستھرے مکانات ہیں۔ چوڑی سڑکیں ہیں صفائی کا اہتمام ہے۔ فضائی کثافت بھی بہت کم ہے۔ اس کے برعکس حال ان محلوں کا ہے جہاں زیادہ تر مسلمان آباد ہیں، یہاں خستہ مکانات، تنگ راستے، ہر طرف کوڑا اور گندگی۔ پوری فضا میں بدبو پھیلی ہوئی۔ کچھ مسلمان جن کے پاس زیادہ دولت آگئی ہے، انھوں نے باہر کے علاقوں میں اچھے مکانات بنا لیے ہیں۔ مگر عام مسلمانوں کا حال وہی ہے جو بیان ہوا۔ اس صورت حال کا سب سے زیادہ درد ناک پہلو یہ ہے کہ اس طرح کے ماحول میں رہنا ہمیشہ فکر و خیال میں سطحیت پیدا کرتا ہے۔ بدقسمتی سے یہی حال مراد آباد کے ان علاقوں میں بسنے والے مسلمانوں کا ہے اور اسی طرح دوسرے شہروں ، مثلاً پرانی دہلی میں رہنے والے مسلمانوں کا۔
مراد آباد میں اگست ۱۹۸۰ میں فساد ہوا تھا جس میں مسلمانوں کا شدید نقصان ہوا۔ تاہم اس سے مسلمانوں میں عمل کا نیا جذبہ بھی بیدار ہوا۔ اس کی کئی مثالیں یہاں سننے اور دیکھنے کو ملیں۔ ایک مثال یہ ہے کہ یہاں کے ایک تاجر حاجی ابوالحسن صاحب ۱۹۸۳ میں اپنے گھر کے کچھ بچوں کو مقامی و لسونیا اسکول میں داخل کرنا چاہتے تھے ، مگر ان کو وہاں داخلہ نہیں ملا۔ حاجی ابوالحسن صاحب اس سے بددل نہیں ہوئے۔ بلکہ انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خود ایک اسکول کھولیں گے۔ چنانچہ انھوں نے ذاتی کوشش سے ۱۹۸۳ میں ایک نیا اسکول قائم کیا جس کا نام ماڈرن پبلک اسکول ہے۔ اس وقت وہ معیار کے اعتبار سے نمبر ایک اسکول سمجھا جاتا ہے۔
ایک صاحب نے کہا کہ اس سے مسلمانوں کو کیا فائدہ ، جب کہ اس میں ۷۵فی صد طلبہ غیر مسلم ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ اس میں مسلمانوں کو رعایتی داخلہ دیا جانا چاہیے۔ میں نے کہا کہ یہ دنیا مقابلےے کی دنیا ہے۔ یہاں رعایت کا مطلب خود کشی ہے۔ آپ کو اپنے بچوں کو مقابل کے لیے تیار کرنا چاہیے۔ رعایت محض ایک خیالی لفظ ہے ، عملی زندگی میں اس کا کوئی حقیقی وجود نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1998 All issues