Al-Risala · January 1998 · page 31

Sri Lankans crush India

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۸، صفحہ ۳۱

ایک صاحب نے بتایا کہ مراد آباد میں جو پیسہ والے مسلمان ہیں۔ ان سے اگر پوچھا جائے کہ تم اتنا زیادہ کس لیے اکٹھا کر رہے ہو۔ تو اس کا جواب یہ ہوتا ہے : اس لیے کہ بچے آرام سے رہیں۔

میں نے کہا کہ بچوں کے آرام کے لیے جو لوگ دولت اور جائیداد اکٹھا کریں وہ خود اپنی اولاد کے لیے کوئی عقل مندی نہیں کر رہے ہیں۔ تجربہ یہ ہے کہ بے محنت کے ملی ہوئی دولت آدمی کے اخلاق کو بگاڑتی ہے۔ وہ اس کے اندر سلطیت، حتیٰ کہ آوارگی پیدا کردیتی ہے۔ بچوں کے ساتھ سب سے پہلی خیر خواہی یہ ہے کہ ان کو اعلیٰ تعلیم دلائی جائے، اور اس کے بعد دوسری ضرورت یہ ہے کہ ان کو محنت کے راستہ پر ڈالا جائے۔

میں نے یہاں کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے پوچھا کہ مراد آباد کے مسلمان اگلے الیکشن (اپریل ۱۹۹۶) میں کس کو ووٹ دیں گے۔ انھوں نے جواب دیا : مراد آباد کے مسلمان اس کو ووٹ دیتے ہیں جو مسلمانوں کا گن گاتے ہیں۔

یہ جواب موجودہ مسلمانوں کی نفسیاتی کمزوری کو بتاتا ہے۔ وہ نصیحت کی بات، داخلی کوتا ہیوں کی اصلاح کی بات کو نا پسند کرتے ہیں۔ البتہ جو شخص بڑے بڑے الفاظ بول کر انھیں ہوائی توقعات کا سبز باغ دکھائے اس کو اپنا ہمدرد سمجھ کر اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ یہ ٹھیک وہی نفسیات ہے جس میں یہود اپنے دور زوال میں مبتلا ہوئے۔ وہ ان افراد کو پسند کرنے لگے جو انھیں جھوٹی امید دلا ئیں (یر میاہ ۳۰ : اس) اور فرضی طور پر اچھی باتیں سنائیں۔ مسلمان اپنی اسی نفسیات کی بنا پر لمبی مدت سے سطحی لیڈروں کے استحصال کا شکار بنے ہوئے ہیں۔

مراد آباد میں ہزاروں چیزیں بنتی ہیں۔ یہ زیادہ تر گفٹ آئٹم ہوتے ہیں جو بر اس (پیتل) کے ذریعہ تیار کیے جاتے ہیں۔ براس خود کوئی مستقل دھات نہیں ہے۔ وہ در اصل مرکب دھات(alloy)ہے (alloy) ہے جو کا پراور زنک کو ملانے سے تیار ہوتا ہے۔ مرکب دھات بنانے کا طریقہ قدیم زمانہ سے رائج ہے۔ مثلاً کاپر اور زنک کو ملا کر براس بنانے کا طریقہ حضرت مسیح سے ہزار سال پہلے موجود تھا۔ اس بارے میں پچکا ایک حیرت انگیز سوال ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1998 All issues

Printed page