مینیمم سے آغاز
الرسالہ، جون ۱۹۹۸، صفحہ ۲۳
مینیمم سے آغاز
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ۵۷۰ء میں پیدا ہوئے ۔ آپ کی وفات ۶۳۲ء میں مدینہ میں ہوئی۔ پہلی وحی آپ پر ۶۱۰ء میں نازل ہوئی۔
اس وقت مکہ میں بہت سے نہایت سنگین قسم کے مسائل تھے۔ مثلاً مقدس کعبہ میں ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے۔ اجتماعی معاملات کے فیصلہ کا مرکز دار الندوہ مشرکوں کے قبضہ میں تھا معاشرہ میں بدکاری، شراب، جوا جیسے سخت جرائم پھیلے ہوئے تھے۔ ایرانی ایمپائر اور رومی ایمپائر نے عربوں کو اپنے ماتحت کادرجہ دے رکھاتھا۔ وغیرہ۔ وغیرہ۔
مگر آپ پر جو پہلی وحی اتری اور جس میں حکم دیا گیا کہ آپ ان حالات میں کیا کریں۔ اس میں ان مسائل میں سے کسی مسئلہ کا ذکر نہیں تھا۔ اور ان کے بارہ میں آپ کو کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ آپ سے سادہ طور پر صرف یہ کہا گیا : اقرأ باسم ربك الذى خلق - خلق الانسان من علق - اقرأ و ربك الاكرم الذى علم بالقلم - علم الانسان مالم يعلم ۔
اس وقت کے مسائل کی نسبت سے دیکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ کم سے کم (minimum) کا حکم تھا۔ مذکورہ مسائل کے بارے میں اگر آپ کو حکم دیا جاتا اور آپ اس کے لیے عمل شروع کر دیتے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ فوراً اگر دو پیش کے لوگوں سے آپ کا شدید ٹکراؤ شروع ہو جاتا۔ مینیمم سے آغاز کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کا ہر قدم منزل کی طرف بڑھنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ جب کہ زیادہ سے آغاز کا نتیجہ اکثر حالات میں الٹابرآمدہوتاہے کسی بھی معاملے میں کامیاب ہونے کی شرط یہ ہے کہ صحیح مقام سے اُس کا آغاز کیا گیا ہو۔ اور صحیح آغاز وہی ہے جو ممکن ہو۔ ممکن سے آغاز ہی دراصل صحیح آغاز ہے۔ اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ مینیمم ہمیشہ ممکن ہوتا ہے، اس کے مقابلے میں میکسی مم سے آغاز ہمیشہ نا ممکن اور ناقابل عمل ۔
مینیمم سے آغاز کا مطلب کم سے آغاز نہیں ہے بلکہ ممکن سے آغاز ہے۔ اسی طرح میکسی مم سے آغاز کا مطلب زیادہ سے آغاز نہیں ہے بلکہ ناممکن سے آغاز ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1998 All issues