درست کلام
الرسالہ، جون ۱۹۹۸، صفحہ ۳۲
درست کلام
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور درست بات (قول سدید) کہو، وہ تمہارے اعمال سدھارے گا۔ اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اس نے بڑی کامیابی حاصل کی (الاحزاب: ۷۰-۷۱)
سدید کے معنی وہی ہیں جس کو اردو میں درست یا ٹھیک کہتے ہیں۔ عربی زبان میں کہا جاتا ہے سَدَّدَ الرُّمَّحَ، یعنی تیر کو ٹھیک نشانہ کے رخ پر سیدھا کیا۔ اس اعتبار سے قولِ سدید کے معنی ہوں گے بالکل ٹھیک بات، نشانہ پر لگتی ہوئی بات (ای قوْلاً قاصداً غير جائرا، حقاًغير باطل (الطبری) غیرباطل(الطبری)ای مستقیمالااعوجاج فيه ولا انحراف (ابن کثیر) اُس سے معلوم ہوا کہ درست کلام سے اصلاحِ اعمال کا فائدہ ہوتا ہے۔ جس سماج میں لوگوں کا حال یہ ہو کہ وہ کسی بات کو درست انداز میں کہیں اس سماج کے معاملات بھی درست رہتے ہیں۔ درست بات اس بات کی ضمانت بن جاتی ہے کہ لوگوں کے معاملات بگڑنے سے بچ جائیں۔ مثلاً آپ اپنے عبادت خانہ کے اندر داخل ہوں۔ وہاں آپ دیکھیں کہ فرش پر مقدس کتاب کے کچھ اوراق بکھرے ہوئے پڑے ہیں۔ اب ایک صورت یہ ہے کہ آپ لوگوں سے یہ کہیں کہ میں عبادت خانہ میں داخل ہوا تو وہاں مقدس کتاب کے کچھ اوراق بکھرے ہوئے پڑے تھے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ لوگوں کو یہ بتائیں کہ دوسرے فرقے کے لوگوں نے مقدس کتاب کی بے حرمتی کی، اور اس کے اوراق پھاڑ کر زمین پر پھینک دیے ۔
آپ کی پہلی بات قولِ سدید کی مثال ہے۔ اور دوسری بات قولِ غیر سدید کی مثال۔ اگر آپ معاملے کو پہلی قسم کے الفاظ میں بیان کریں تو اس سے کوئی خرابی پیدا نہیں ہوگی۔ اس کے برعکس اگر آپ مذکورہ مثال کے مطابق، دوسری قسم کے الفاظ بولنے لگیں تو سننے والے بھڑک اٹھیں گے ۔ ہر طرف غم وغصے کی لہر دوڑ جائے گی ۔ لوگ دوسرے فرقے کے خلاف انتقامی کارروائی شروع کردیں گے۔ اس کے بعد جوابی انتقام کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ اور پھر پوری بستی آگ اور خون کی نذر ہو جائے گی ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1998 All issues