Al-Risala · June 1998 · page 33

منصوبہ بند عمل

الرسالہ، جون ۱۹۹۸، صفحہ ۳۳

منصوبہ بند عمل

قرآن کی سورہ نمبر ۴۶ میں ارشاد ہوا ہے ۔ پس تم صبر کرو جس طرح ہمت والے پیغمبروں نے صبر کیا اور ان کے لیے جلدی نہ کرو (فا صبر كما صبر اولوا العزم من (الرسل ولا تستعجل لهم) الاحقاف ۳۵ زندگی مشکلات اور مسائل کے درمیان جینے کا نام ہے۔ خاص طور پر جو آدمی کوئی مقصد یا مشن لے کر اٹھے اس کے لیے تو قدم قدم پر رکاوٹیں اور مخالفتیں پیش آتی ہیں۔ اس کو طوفانوں کے درمیان اپنا سفر طے کرنا ہوتا ہے۔

ایسی حالت میں زندگی کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ جب کوئی مخالف صورت حال سامنے آئے تو فوری رد عمل کے تحت اس کے خلاف کارروائی شروع کر دی جائے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ مخالف صورت حال پیش آنے کے بعد آدمی اپنے جذبات کو تھامے۔ وہ پورے معاملے پر ٹھنڈے ذہن کے ساتھ غور و فکر کرے۔ اسی کے ساتھ وہ صاحب مشورہ لوگوں سے مشورہ بھی کرے۔ اس کے بعد سوچے سمجھے فیصلے کے مطابق جوابی کارروائی کرے ۔ پہلے طریقہ کا نام عجلت ہے اور دوسرے طریقہ کا نام صبر ۔ عجلت کے تحت کیا ہوا اقدام ہمیشہ ناکام ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے اقدام میں صورت حال کا پورا جائزہ شامل نہیں ہوتا۔ ایسا آدمی نہ اپنی طاقت کا صحیح اندازہ کرتا ہے اور نہ فریق ثانی کی طاقت کا ۔ وہ نتیجہ کی پروا کیے بغیر فوری طور پر مقابلہ کے میدان میں کود پڑتا ہے۔ اور یہ فطرت کا قانون ہے کہ اسباب کا لحاظ کیے بغیر اس دنیا میں جو اقدام کیا جائے وہ کبھی کامیابی کے درجہ تک نہ پہنچے۔ صبر کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ جو آدمی صبر کا طریقہ اختیار کرے وہ کارروائی سے پہلے اس کے انجام کو سوچتا ہے ، وہ جذبات کی رعایت کرنے کے بجائے حقیقت کی رعایت کرتا ہے ، وہ جانتا ہے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں ہے جہاں فطرت کے قانون کی حکمرانی ہے ، نہ کہ اس کی اپنی خواہشوں اور تمناؤں کی۔

صبر یہ ہے کہ آدمی جذبات سے اوپر اٹھ کر حقیقت کو دیکھے۔ وہ ذاتی خواہشوں سے غیر متاثرہ کر فطرت کے نظام کو سمجھے۔ صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ منصوبہ بند عمل کر سکے اور اس دنیا میں کامیاب عمل وہی ہے جو منصوبہ بندی کے ساتھ انجام دیا گیا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1998 All issues

Printed page