Al-Risala · June 1998 · page 44

منفی سوچ نہیں

الرسالہ، جون ۱۹۹۸، صفحہ ۴۴

منفی سوچ نہیں

ہجرت کے تیسرے سال غزوہ احد پیش آیا۔ اس میں مسلمانوں کو شکست ہوئی۔ یہ غزوہ ہر اعتبار سے مخالفین اسلام کی جارحیت اور زیادتی پر مبنی تھا۔ بظاہر یہ ہونا چاہیے تھا کہ قرآن میں اس پر مخالفین کے لیے مذمت کی آیتیں اتریں۔ مگر برعکس طور پر قرآن میں وہ آیتیں اتریں جن میں خود مسلمانوں کو نصیحت کی گئی تھی ۔ قرآن میں مسلمانوں سے کہا گیا کہ اگر احد کے موقع پر تم کو زخم پہنچا ہے تو اس سے پہلے بدر کے موقع پر فریق ثانی کو زخم پہنچ چکا ہے۔ اور یہ ایام ہم اسی طرح بدلتے رہتے ہیں (فَإِنْ يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِثْلُهُ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ) قرآن میں یہ انداز کیوں اختیار کیا گیا۔ اس کا راز یہ ہے کہ زندگی کی تمام ترقیاں ان لوگوں کو ملتی ہیں جو مثبت طرز فکر کے حامی ہیں۔ غزوہ احد کے حادثہ سے اندیشہ تھا کہ مسلمان انتقامی نفسیات میں مبتلا ہو جائیں گے اور اس طرح وہ مثبت ذہن کو کھو دیں گے۔ اس خطرہ سے بچانے کے لیے قرآن میں مذکورہ قسم کا تبصرہ نازل کیا گیا۔ منفی نفسیات کے طوفان میں انھیں مثبت نفسیات کی طرف موڑ دیا گیا۔ یہی تدبیر دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپانیوں نے اختیار کی۔ دوسری عالمی جنگ میں امریکا نے جاپان کے صنعتی شہر ہیروشیما پر ایٹم بم گرا کر اسے تباہ کر دیا تھا۔ اس کے بعد جاپانیوں میں امریکا کے خلاف انتقام کی آگ بھڑک اٹھی تھی۔ اس وقت جاپان کے دانش وروں نے یہ کہہ کر اپنی قوم کو ٹھنڈا کیا کہ اگر امریکا نے ۱۹۴۵ میں ہمارے ہیروشیما کو تباہ کیا ہے تو اس سے پہلے ۱۹۴۱ میں ہم ان کے پرل ہاربر کو تباہ کر چکے تھے۔ اب معاملہ برابر ہو گیا۔ اب آؤ ہم یکسو ہو کر مستقبل کی تعمیر کریں۔ دانش وروں کی اس صحیح رہنمائی نے جاپانی قوم کے لیے تباہی کے باوجود ترقی کا ایک نیا دروازہ کھول دیا۔ یہی اس دنیا میں ترقی کا راز ہے۔ یہاں وہ لوگ ترقی کرتے ہیں جو منفی تجربہ کے باوجود اپنی مثبت سوچ کو باقی رکھیں، جو مخالف حالات میں بھی اپنے لیے موافق امکانات تلاش کر لیں۔ جو نا کامیوں کے ہجوم میں اپنے لیے کامیابی کا نیا راستہ دریافت کر لیں۔

اس دنیا میں بڑی ترقی صرف ان لوگوں کے لیے مقدر ہے جو خارج سے غیر متاثر رہ کر اپنا راستہ خود اپنی مثبت سوچ کے تحت بنائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1998 All issues

Printed page