ایمان کا کرشمہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۱۳
ایمان کا کرشمہ
ابن تیمیہ مشہور حنبلی عالم ہیں وہ شام میں ۶۶۱ ھ میں پیدا ہوئے اور ۷۲۸ ھ میں وفات پائی۔ ان کی قبر دمشق میں ہے۔ ان کی کتابوں کی تعداد تین سو سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ اپنے غیر مقلدانہ خیالات کی وجہ سے وہ اکثر حکومت اور علماء کے عتاب کا شکار ہوئے۔ ان کو جلا وطنی اور قید کا سامنا کرنا پڑا ان کی وفات بھی دمشق کے قید خانہ میں ہوئی۔ انھوں نے اپنے بارے میں ایک بار کہا کہ : جنتی فی صدری ان رحت فہی معی لا تفارقنی إن حبسی خلوة وقتلی شهادة و اخراجی من بلدی سیاحة ۔ یعنی میری جنت میرے سینے میں ہے جب میں چلتا ہوں تو وہ میرے ساتھ ہوتی ہے وہ کبھی مجھ سے جدا نہیں ہوتی۔ میری قید میرے لیے تنہائی ہے اور جلا وطنی میرے لیے سیاحت ہے۔ اگر کوئی مجھے قتل کر دے تو وہ بھی میرے لیے شہادت ہوگی۔ ایمان ایک فکری انقلاب ہے۔ وہ آدمی کے طرزِ فکر کو پوری طرح بدل دیتا ہے۔ اس تبدیلی کا سب سے بڑا پہلو یہ ہے کہ ایسا آدمی اپنے آپ میں جینے لگتا ہے۔ حق کی دریافت اس کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ دنیا کا کھونا اور دنیا کا پانا اس کے لیے ایک اضافی چیز بن جائے۔ ایسے آدمی کے لیے قید ایک ایسی تنہائی ہوتی ہے جہاں وہ زیادہ غور وفکر کا موقع پالے اگر اس کو اپنے وطن سے باہر نکلنا پڑے تو وہ اس کے لیے مطالعہ اور مشاہدہ میں توسیع کے ہم معنیٰ ہوتا ہے۔ اگر اس کو جان و مال کے نقصان سے دوچار ہونا پڑے تو وہ بھی اس کی روحانیت میں اضافہ کا سبب بن جاتا ہے۔
ایمان آدمی کی روحانیت کو جگاتا ہے، وہ اس کے اندر سوچنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ اس طرح ایک صاحب ایمان اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ مادی سہاروں سے اوپر اٹھ جائے، وہ ایک بلند تر ربانی سطح میں سانس لینے لگے ایسے آدمی کے لیے کوئی محرومی محرومی نہیں کیونکہ جو اعلیٰ حقیقت اس نے پائی ہے وہ اس وقت بھی بھر پور طور پر اس کو حاصل رہتی ہے۔ جب کہ بظاہر تمام دنیوی چیزیں اس سے چھن چکی ہوں وہ اس وقت بھی اپنے آپ کو خدائی جنت میں پاتا ہے جب کہ انسانوں نے اپنی بنائی ہوئی جنت سے اس کو باہر نکال دیا ہو۔
ایمان ایک طاقت ہے، بلکہ تمام طاقتوں سے زیادہ بڑی طاقت۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues