سیکھنے کا مزاج
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۱۴
سیکھنے کا مزاج
خلیفہ دوم حضرت عمر فاروقؓ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ہر ایک سے کچھ نہ کچھ سیکھتے تھے (کان یتعلم من کل احد) اس معاملے کی ایک مثال روایات میں اس طرح آئی ہے کہ ایک بار انھوں نے ایک صحابی سے پوچھا کہ تقویٰ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اے امیر المومنین کیا آپ کبھی ایسے راستہ سے گزرے ہیں جس کے دونوں طرف کانٹے دار جھاڑیاں ہوں۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ ہاں۔ انھوں نے پوچھا کہ پھر ایسے موقع پر آپ نے کیا کیا۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ میں نے اپنے دامن سمیٹ لیے اور بچتا ہوا نکل گیا۔ انھوں نے کہا کہ یہی تقویٰ ہے (ذلك التقویٰ)
حضرت عمر کا یہی طریقہ عام معاملات میں بھی تھا۔ وہ اونٹ والوں سے اونٹ کی بات پوچھتے تھے اور بکری والوں سے بکری کی بات۔ اسی طرح ان کو جو شخص بھی ملتا اس سے اسی کے میدان کی بات دریافت کرتے۔ اس طرح وہ ہر ایک سے اس کے معلومات کے دائرہ میں سوالات کرتے اور اس سے نئی نئی باتیں دریافت کرتے۔
موجودہ زمانہ میں اسی کو اسپرٹ آف انکوائری کہا جاتا ہے۔ سائنسی نقطہ نظر سے اس کی بے حد اہمیت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہی لوگ زیادہ بڑے عالم بنتے ہیں جن کے اندر یہ تجسسانہ اسپرٹ موجود ہو۔ اس قسم کی اسپرٹ ہر ایک کے لیے انتہائی ضروری ہے، خواہ وہ ایک عام آدمی ہو یا کوئی اونچے سطح کا آدمی۔
عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ سننے سے زیادہ سنانے کے شوقین ہوتے ہیں۔ مگر اس قسم کا مزاج علم کی ترقی میں ایک مستقل رکاوٹ ہے ایسے لوگ کبھی زیادہ بڑی علمی ترقی حاصل نہیں کر سکتے۔ جب آپ بولتے ہیں تو آپ وہیں رہتے ہیں جہاں کہ آپ ہیں۔ مگر جب آپ سنتے ہیں تو آپ اپنے علم میں اضافہ کرتے ہیں۔ صحیح علمی مزاج یہ ہے کہ آدمی بولنے سے زیادہ سنے، وہ جب بھی کسی سے ملے تو سوالات کرکے اس سے معلومات لینے کی کوشش کرے۔
معلومات کا خزانہ ہر طرف اور ہر جگہ موجود ہے ۔ مگر وہ صرف اس شخص کے حصہ میں آتا ہے جو اس کو لینے کے آداب کو جانتا ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues