Al-Risala · July 1998 · page 20

اسلام تغیر پذیر دنیا میں

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۲۰

ان معاملات میں اسلام صرف وہاں دخل دے گا جہاں کوئی بات صراحۃً اسلامی تعلیمات کے خلاف ہو۔ مثلاً ہوائی جہاز کی انڈسٹری کیسے قائم کی جائے اس میں اسلام کی طرف سے مکمل آزادی حاصل ہوگی۔ البتہ اگر یہ سوال ہو کہ ہوائی جہاز کے مسافروں کو سافٹ ڈرنک دیا جائے یا شراب تو یہاں اسلام یہ کہے گا کہ انہیں شراب کے بجائے سافٹ ڈرنک دینا چاہیے۔

۳۔ اس سلسلہ کی تیسری اہم تعلیم وہ ہے جو پیغمبر اسلام کے ایک اسوہ سے نکلتی ہے۔ مدنی دور میں ایک شخص (مسیلمہ) نے یہ اعلان کیا کہ میں بھی خدا کا پیغمبر ہوں اور مجھ کو محمد کے ساتھ پیغمبری میں شریک کیا گیا ہے (سیرت ابن ہشام ۴/۲۴۳)۔ اس مدعی نبوت کے دو سفیر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ اس معاملہ میں تمہاری رائے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو ہمارے صاحب کی رائے ہے وہی ہماری رائے ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر یہ دستور نہ ہوتا کہ سفیروں کو قتل نہ کیا جائے تو میں تم دونوں کو قتل کردیتا(سیرۃ ابن کثیر ۲/ ۹۸) یہ کہہ کر آپ نے انہیں واپس بھیج دیا۔

اس سے ایک اہم اصول یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ معاملات جو اپنی نوعیت میں بین اقوامی (انٹر نیشنل) ہوں اور جن کے بارے میں واضح بین اقوامی روایات قائم ہو چکی ہوں ان میں اسلام کا بھی وہی اصول ہوگا جو مختلف قوموں کے درمیان عالمی سطح پر مان لیا گیا ہے۔

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں عام طور پر جنگی قیدیوں کو غلام بنانے کا رواج تھا چنانچہ اسلام میں بھی ایک مدت تک وہ اسی طرح رائج رہا مگر اب چونکہ اس معاملہ میں عالمی دستور بدل چکا ہے اس لئے اب اس پر عمل بھی نہیں کیا جائے گا۔ چنانچہ عراق۔ ایران جنگ ۸۸-۱۹۸۰ میں دونوں طرف ہزاروں کی تعداد میں جنگی قیدی پکڑے گئے۔ مگر ان میں سے کسی کو بھی غلام نہیں بنایا گیا۔ بلکہ ایک مدت تک قید میں رکھنے کے بعد تبادلہ کی بنیاد پر انہیں رہا کر دیا گیا۔

۴۔ کچھ امور وہ ہیں جن میں کچھ پہلو اتفاق کے ہوں، کچھ پہلو اختلاف کے۔ ایسے امور میں اسلام کا موقف بالکل واضح ہے۔ حالات کے مطابق، اس طرح کے معاملات میں بقدر ضرورت ہم آہنگی کا طریقہ اختیار کیا جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ایسے مواقع پر آئیڈیل اپروچ کے بجائے پریکٹیکل اپروچ

‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues

Printed page