Al-Risala · January 1998 · page 36

ہی کرڈالوں تو آپ کے کرنے کے لیے کیا رہے گا

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۸، صفحہ ۳۶

گویا ساؤتھ کوریا آج بھی "سیاسی غلام" ہے۔ جب کہ ہندوستان کو یہ فخر ہے کہ وہ مکمل طور پر ایک آزاد ملک بن چکا ہے۔

اسی طرح ہندوستان ٹائمز (۱۰ مارچ) میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سیکریٹری بدھاپریا موریا کا ایک انٹرویو تھا۔ اس میں انھوں نے کہا تھا کہ نرسمہا راؤ کو یہ مہارت حاصل ہے کہ وہ اقتدار میں کس طرح قائم رہیں ؟

Narasimha Rao has the technical know-how to stay in power. میں نے کہا کہ یہی ہمارے ملک کا سیاسی المیہ ہے۔ ہمارے ملک کے لیڈروں کو صرف اس فن کا ماہر بننے سے دل چسپی ہے کہ وہ کس طرح الیکشن جیتیں اور پھر کس طرح اپنے سیاسی اقتدار کو باقی رکھیں ۔ ان کو اس سے کوئی دل چسپی ہی نہیں کہ ملک ترقی کی طرف جائے ۔ ملک کے عوام کی معاشی اور سماجی حالت بہتر ہو ۔ آج کا اصل مسئلہ اس سیاسی مزاج کو بدلنا ہے نہ کہ اس پارٹی یا اس پارٹی کے ہاتھ میں اقتدار دینا۔

مراد آباد کے جس مکان میں میں ٹھہراتھا اس کے گراؤنڈ فلور پر ایک صاحب رہتے ہیں ۔ اس سفر میں پہلی بار ان سے واقفیت ہوئی ؛

M.A.I. Faizi, Faizi Lodge, B-600 Lajpat Nagar Moradabad-244001 (Tel. 0591-315402, 315403)

۱۰ مارچ کی صبح کو مسٹر فیضی اپنے بزرگ والد مولانا عبد الرزاق صاحب کو لے کر آئے۔ موصوف ۱۹۱۱ میں خیر آباد میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۶۷ سے وہ مراد آباد میں اپنے صاحبزادے کے ساتھ رہتے ہیں۔ اس سے پہلے میں ان کو نہیں جانتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ مجھے آپ سے ملنے کی بہت خواہش تھی۔ آج اللہ کے فضل سے اس کا موقع مل گیا۔

مولانا عبد الرزاق صاحب نے موجودہ زمانہ کے تمام علماء اور مفکرین کو پڑھا ہے۔ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کے وہ خصوصی مداح ہیں اور ان سے اتفاق رکھتے ہیں۔ میرے بارہ میں بار بار وہ کہتے رہے کہ "آپ ان کو کرپٹ نا کہو، کہتے بیگ خدا نے آپ کو ان سے بھی آگے بڑھا دیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1998 All issues

Printed page