Al-Risala · July 1998 · page 21

اسلام تغیر پذیر دنیا میں

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۲۱

اسلام کا طریقہ ہو گا۔

اس سلسلہ میں سیکولرزم اور ڈیموکریسی اس کی واضح مثالیں ہیں۔ سیکولرزم کا مطلب ہے مذہب کو ذاتی دائرے میں رکھ کر بقیہ معاملات میں وہ طریقہ اختیار کرنا جس میں سماج کا مجموعی مفاد شامل ہو۔ مخصوص حالات میں اس کو اسلام میں بھی اختیار کیا جائے گا۔ اس کی ایک مثال خود پیغمبر کی زندگی میں مدنی دور کا ابتدائی نصف زمانہ ہے۔ اس زمانہ میں مدینہ کی ابتدائی اسٹیٹ میں جو نظام اختیار کیا گیا وہ اپنے عملی ڈھانچہ کے اعتبار سے کم و بیش وہی تھا جس کو موجودہ زمانہ میں سیکولرزم کہا جاتا ہے۔

۵- ان سب کے باوجود ایسا ہو سکتا ہے کہ کچھ امور ایسے ہوں جن میں اسلام کا اور بدلی ہوئی دنیا کا اختلاف باقی رہے۔ ایسے معاملات کے لئے اسلام میں کیا ہدایت ہے اس کا جواب قرآن کی اس آیت میں ملتا ہے کہ تم لوگوں کو نصیحت کرتے رہو، کیوں کہ تم صرف نصیحت کرنے والے ہو، تم لوگوں کے اوپر داروغه نہیں ہو (الغاشیہ)۔

اس سے یہ اصول ملتا ہے کہ اس قسم کے اختلافی امور میں دونوں فریقوں کے درمیان ڈائیلاگ ہو گا۔ اہل اسلام دوسروں کو اپنی پوزیشن بتانے کی کوشش کریں گے۔ خالص پر امن انداز میں یہ کوشش جاری رہے گی کہ حق واضح ہو، اور لوگ دلیل کی زبان سے مطمئن ہو کر حق کو قبول کر لیں۔ تاہم یہ سارا کام صرف پر امن ترغیب کے دائرہ میں ہوگا، کسی بھی حال میں کوئی متشددانہ طریقہ استعمال نہیں کیا جائے گا خواہ یہ اختلافات ختم ہو جائیں یا بدستور لمبی مدت تک باقی رہیں۔ یہ اصول اس بات کا ضامن ہے کہ اسلام کی پوزیشن فکری طور پر لوگوں کے اوپر واضح ہو جائے۔ اہل اسلام اپنے مسلک پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کو اس سے پوری طرح باخبر کر دیں۔

اس کی ایک مثال مرد اور عورت کی صنفی مساوات (gender equality) کا مسئلہ ہے، اس معاملہ میں اسلام اور جدید مغرب کے نقطہ نظر میں اختلاف ہے۔ وہ یہ کہ جدید مغرب کا یہ کہنا ہے کہ عورت اور مرد دونوں کا ورک پلیس (مقام کار) ایک ہے۔ مگر اسلام کا نقطہ نظریہ ہے کہ جہاں تک عزت، احترام اور انسانی حقوق کا سوال ہے، دونوں کے درمیان مکمل مساوات ضروری ہے۔ لیکن جہاں تک ورک پلیس کا تعلق ہے

‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues

Printed page