Al-Risala · July 1998 · page 22

اسلام تغیر پذیر دنیا میں

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۲۲

دونوں کا ورک پلیس بنیادی طور پر الگ ہوگا۔ کیونکہ حیاتیات اور نفسیات کے اعتبار سے دونوں صنفوں کے درمیان فرق پایا جاتا ہے۔ اس اختلاف کے سوال پر اسلام اور مغرب کے درمیان پچھلے سوسال سے رسمی اور غیر رسمی سطح پر ڈائیلاگ جاری ہے اگرچہ ابھی تک اس معاملے میں دونوں کے درمیان کوئی اتفاق رائے ممکن نہ ہو سکا۔ اسلام کا رول بہتر دنیا کی تعمیر میں اسلام کا ایک مستقل رول ہے۔ یہ رول اسلام کے ابتدائی زمانہ سے لے کر بعد کے زمانوں تک جاری رہا ہے اور مسلسل جاری رہیگا۔ یہاں مختصر طور پر اس کے چند پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔

ا۔ جب اسلام کا ظہور ہوا تو قدیم عرب میں قبائلی نظام تھا۔ ان کا کلچر انتقام کے اصول پر قائم تھا۔ ان کے یہاں جب اس قسم کا کوئی ایک واقعہ پیش آتا تو فریق ثانی کے لئے ضروری ہو جاتا کہ وہ اس کا انتقام لے۔ اس کے بعد انتقام کا انتقام لینے کی صورت میں یہ تباہ کن سلسلہ برابر جاری رہتا۔ یہ صورت حال قدیم عربوں کی ترقی میں مستقل رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔ اسلام نے انتقام کلچر کی جگہ معافی کلچر کو رواج دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عربوں کے لئے ہر قسم کی ترقی کا دروازہ کھل گیا۔

۲۔ موجودہ زمانہ میں بھی اس قسم کی کئی چیزیں ہیں جہاں اسلام اپنا مثبت رول ادا کر سکتا ہے۔ مثلاً انفرادی آزادی بہت قیمتی چیز ہے مگر جدید مغربی تہذیب نے آزادی کو خیر مطلق (summum bonum) قرار دے کر اس کو لامحدود حد تک وسیع کر دیا۔ اس لامحدود آزادی کے بے شمار نقصانات ہیں جن کو آج دنیا مختلف صورتوں میں بھگت رہی ہے۔

تمام اہل دانش یہ مانتے ہیں کہ آزادی بلاشبہ ایک خیر ہے مگر لامحدود آزادی شر میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ جدید تہذیب یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ آزادی کو محدود کس طرح کیا جائے اور کس کے مقابلہ میں کیا جائے۔ یہاں اسلام یہ رہنمائی دیتا ہے کہ انسان کو چاہئے کہ وہ اپنی آزادی کو خدا کے مقابلہ میں محدود بنائے۔ انسان کے مقابلہ میں آزادی کو محدود کرنا بظاہر نا قابل فہم ہے مگر خدا کے مقابلہ میں آزادی کا تصور فوراً قابل فہم ہو جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues

Printed page