اسلام تغیر پذیر دنیا میں
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۲۳
اس نوعیت کی ایک کامیاب مثال اس سے پہلے سامنے آچکی ہے۔ پچھلے پانچ ہزار سال سے یورپ فلسفیوں کے اس تصور سے مسحور تھا کہ انسانی عقل حقیقت کلی تک پہنچ سکتی ہے۔ مگر اس رخ پر ہزاروں سال کی کوشش کسی مثبت نتیجہ تک نہیں پہنچ سکی۔
اسلام نے اس معاملہ میں یہ رہنمائی دی کہ عقل انسانی صرف جزئی حقیقت کا احاطہ کر سکتی ہے، وہ کلی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتی (وما اوتیتم من العلم الا قليلا)۔ اس محدودیت کی بنا پر حقیقت کلی کو عقل کے ذریعہ دریافت کرنے کی کوشش ایک بے فائدہ کوشش ہے جو کبھی کسی واقعی نتیجہ تک پہنچنے والی نہیں۔ قرون وسطیٰ میں جب اسلامی فکر یورپ میں پھیلا تو اس نے تاریخ میں پہلی بار یہ ذہن بنایا کہ سائنسی ریسرچ کے دائرہ کو محدود رہنا چاہئے۔ اب یورپ کے اہل علم نے اشیاء کے معنوی پہلو کو اس کے مادی پہلو سے الگ کر دیا۔ وہ معنوی پہلو کو چھوڑ کر چیزوں کے مادی پہلو پر ریسرچ کرنے لگے۔ اس طرح اچانک سائنسی تحقیق بے فائدہ کوشش کے میدان سے نکل کر نتیجہ خیز عمل کے میدان میں داخل ہو گئی۔ ’’علم کثیر‘‘ کو چھوڑ کر ’’علم قلیل‘‘ پر راضی ہونے کا یہی اصول تھا جو جدید سائنسی تہذیب کو وجود میں لانے کا سبب بنا۔ اسی طرح جدید مغرب ایک اور سحر میں مبتلا ہے۔ یہ لا محدود آزادی کا سحر ہے۔ مگر دوبارہ فطرت کا قانون اس کے لئے ایک مستقل رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ وہ یہ کہ لا محدود آزادی کے تصور کے تحت کبھی کوئی بہتر سماج نہیں بنایا جا سکتا۔ یہاں دوبارہ اسلام ایک عظیم رہنمائی دے رہا ہے۔ وہ یہ کہ انسان محدود آزادی پر راضی ہو جائے۔ کیونکہ موجودہ دنیا میں صرف یہی ممکن ہے۔
لا محدود آزادی کے تصور نے دنیا کو انار کی کا جنگل بنا دیا ہے۔ محدود آزادی کا اصول دنیا کو امن اور سکون کا سماج بنا سکتا ہے۔ یہ دوسرا اصول اسی طرح جدید دنیا میں ایک نیا انقلاب لا سکتا ہے جس طرح پہلا اصول قدیم دنیا میں ایک عظیم انقلاب لایا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues