قوت مرہبہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۲۴
قوت مرہبہ
قرآن میں صبر کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ تم لوگ اپنے بچاؤ کا انتظام رکھو (النساء (۱۲). قرآن میں فرمایا کہ صلح بہتر ہے (النساء (۱۲۸) اسی کے ساتھ قرآن میں یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ اپنے دشمنوں کے لئے قوت مرہبہ فراہم کرو (الانفال کرو(الانفال:60 اس سے معلوم ہوا کہ زندگی میں بیک وقت دو قسم کی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک طرف یہ کہ آدمی لوگوں کی ایذاؤں پر صبر کرے، وہ نزاع کے موقع پر صلح اور مفاہمت کے لئے تیار رہے دوسری طرف یہ کہ آدمی لوگوں کے شر سے بچنے کی تدبیر کرے، وہ اپنے ساتھ ایسی قوت جمع کرے جو لوگوں کو اس کے بارے میں خوف زدہ کرنے والی ہو۔
تاہم ان دونوں قسم کی چیزوں کی اہمیت یکساں نہیں۔ ان میں سے ایک کی حیثیت اصل کی ہے اور دوسری کی حیثیت وقتی ضرورت کی۔ آدمی کو چاہئے کہ اس کی زندگی کا اصل اصول تو یہی ہو کہ وہ صبر واعراض کی نفسیات کے ساتھ دنیا میں رہے۔ اگر کسی سے اس کو تکلیف پہنچ جائے تو وہ اس کو معاف کر دے اور پہلے ہی مرحلے میں مصالحت کر کے معاملے کو ختم کر دے۔
مگر یہ دنیا آزادی کی دنیا ہے۔ یہ آزادی جو برائے امتحان دی گئی ہے وہ اکثر لوگوں کو سرکش بنا دیتی ہے۔ آدمی اپنی انانیت اور سرکشی کی بنا پر وہ چیز چاہنے لگتا ہے جو از روئے انصاف اس کا حق نہیں، ایسے لوگ موقع پاتے ہی دوسروں کو اپنی سرکشی کا نشانہ بنانے لگتے ہیں۔ وہ دلیل کے آگے جھکنے کے لئے تیار نہیں ہوتے ، البتہ اگر طاقت کا سامنا ہو تو وہ جھک جائیں گے۔
یہی وہ دوسری ضرورت ہے جس کے لئے اہل ایمان کو قوت مرہبہ فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن کو صابر اور صلح پسند ہونے کے ساتھ یہ بھی کرنا چاہئے کہ وہ اپنے ارد گرد ایسے اسباب جمع رکھے جو سرکش انسانوں کے لئے روک کا کام دیں۔ جن کو دیکھ کر شریر لوگ اس طرح خوف زدہ ہو جائیں کہ وہ اپنے آپ مومن کو اپنی سرکشی کا نشانہ بنانے سے باز ر ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues