جھوٹ کی اشاعت
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۲۷
پتہ بھی پورے درخت کی خاموش رضامندی کے بغیر زمین پر نہیں گرتا :
یہ بات عقل اور اسلام دونوں اعتبار سے بالکل درست ہے۔ اسی لیے اسلام میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ کسی معاشرہ میں جب ایک شخص برائی کرے تو پورے معاشرہ کا فرض ہے کہ وہ برائی کرنے والے کا ہاتھ پکڑے ۔ اگر معاشرہ ایسا نہ کرے تو دونوں ہی اس برائی کے ذمہ دار ٹھہریں گے ، برائی کرنے والا براہِ راست طور پر اور معاشرہ بالواسطہ طور پر ۔
دہلی کے مسلم ہفت روزہ الجمعیۃ کا شمارہ ۲۴-۳۰ اپریل ۱۹۹۸ء کو دیکھیے۔ اس کے صفحہ اول پر جلی حرفوں میں یہ عنوان درج ہے : سنگھ آر ایس ایس) کی مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش ۔ یہی حال دنیا بھر کے تمام مسلم اخبارات و رسائل کا ہے۔ ان اخبارات میں ہر روز اسی طرح غیر مسلموں کی زیادتیوں اور سازشوں کی مذمت درج ہوگی مگر مسلمانوں کی زیادتیوں کی مذمت کبھی کسی اخبار میں نہیں چھپتی ۔ موجودہ زمانہ میں مسلم معاشرہ کا حال یہ ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر جھوٹا الزام لگاتا ہے۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی کردار کشی کرتا ہے ، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی عزت و آبرو پر حملہ کرتا ہے۔ یہ سب کچھ بہت بڑے پیمانہ پر ہر روز ہو رہا ہے۔ مگر ہمارے لکھنے اور بولنے والے لوگ ان واقعات کی مذمت نہیں کرتے ، نہ قلمی اور نہ زبانی ۔ ایک دوسرے کی غیبت کی آوازوں سے تو مسلمانوں کی مجلسیں بھری ہوئی ہیں۔ مگر غلط کاروں کی کھلی مذمت کے لیے نہ کسی کے پاس زبان ہے اور نہ قلم ۔
یہی وہ کمی ہے جس نے موجودہ صورت حال پیدا کی ہے۔ اگر ہمارا معاشرہ ایک زندہ معاشرہ ہو، اگر اس کے افراد میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی روح موجود ہو ، اگر ملت کے افراد میں یہ تڑپ ہو کہ وہ برائی کو دیکھ کر چپ نہ رہ سکیں تو ساری صورت حال یکسر بدل جائے گی ۔ اس کے بعد کسی کو مذکورہ قسم کی جھوٹی خبر وضع کرنے کی ہمت ہی نہ ہوگی ۔ کوئی مسلمان اس کی جرات نہیں کرے گا کہ وہ دوسرے مسلمان کو بدنام کرنے کی کوشش کرے ۔
موجودہ مسلم معاشرہ میں کوئی شخص ایسا نہیں کرتا کہ وہ کعبہ کے بارہ میں توہین آمیز الفاظ بولے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues