جھوٹ کی اشاعت
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۲۸
یا کعبہ کی توہین میں کوئی بیان اخبار میں چھپوائے۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کعبہ کے بارہ میں مسلم معاشرہ انتہائی حد تک حساس ہے۔ کوئی شخص کعبہ کے خلاف بے ہودہ بات کہے تو فوراً سیکڑوں آدمی اس کے مواخذہ کے لیے کھڑے ہو جائیں گے۔ معاشرہ کا یہ خوف لوگوں کو کعبہ کے خلاف لکھنے اور بولنے میں طاقت ور رکاوٹ بن گیا ہے۔ مگر جہاں تک مسلم افراد کا تعلق ہے، کوئی بھی مسلمان کسی بھی مسلمان کے خلاف لغو باتیں کرنے لگتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ کعبہ کی حرمت کے بارہ میں جو حساسیت مسلم معاشرہ میں پائی جاتی ہے، وہی حساسیت مسلمان کے بارہ میں موجود نہیں۔ حالانکہ حدیث میں آیا ہے کہ مومن کی حرمت کعبہ کی حرمت سے زیادہ ہے (حرمة المومن حرمة من الكعبة) ایک صحابی کے بارے میں روایت ہے کہ انھوں نے کعبہ کو دیکھ کر کہا کہ تیری حرمت بہت زیادہ ہے مگر مومن کی حرمت تجھ سے بھی زیادہ ہے (المومن اعظم حرمة عند الله منك) الترمذی کتاب البر، ابن ماجه کتاب الفتن، الدارمی كتاب المناسك - - مذکورہ جھوٹی خبر میں راقم الحروف کی کتاب "شتم رسول کا مسئلہ“ کے بارہ میں کہا گیا ہے کہ وہ سلمان رشدی کے دفاع میں لکھی گئی ہے۔ یہ موجودہ زمانہ کے نام نہاد مسلم دانشوروں کی اس مجرمانہ کمزوری کی ایک مثال ہے جو عام طور سے اس طبقہ میں پائی جاتی ہے ۔ وہ ہے کسی کی تصویر بگاڑنے کے لیے اس کی بات کو منحرف صورت میں پیش کرنا ۔ راقم الحروف کی کتاب سلمان رشدی کے دفاع سے قطعا کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ وہ مسئلہ شتم کا علمی جائزہ ہے۔ مگر اس کو غلط طور پر رشدی کے دفاع کا نام دے دیا گیا ہے تاکہ مصنف کو بدنام کیا جا سکے ۔ کوئی بھی شخص اصل کتاب کو پڑھ کر اس حقیقت کو جان سکتا ہے۔ یہاں اس معاملہ کی وضاحت کے لیے کتاب کے کچھ متعلق حصے نقل کیے جاتے ہیں :
”سلمان رشدی کی کتاب (شیطانی آیات) میں نے خود پڑھی ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ یہ ایک انتہائی لغو کتاب ہے۔ اس کتاب کی لغویت کے بارہ میں میری وہی رائے ہے جو دوسروں کی رائے ہے (صفحہ ۵۰) ۔ ۔ ۔ مسلم رہنما اگر اس معاملہ کی تحقیق کرتے تو انھیں معلوم ہوتا کہ سلمان رشدی کی کتاب اگرچہ نہایت بے ہودہ ہے، مگر اسی کے ساتھ دوسری اہم بات یہ ہے کہ وہ ناقابل مطالعہ
‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues