Al-Risala · July 1998 · page 29

جھوٹ کی اشاعت

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۲۹

بھی ہے۔ وہ کوئی تخلیقی ناول نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فنی اعتبار سے وہ اتنی پست اور اتنی غیر دلچسپ ہے کہ وہ سرے سے اس لائق ہی نہیں کہ کوئی شخص اس کو شروع سے آخر تک پڑھے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب اپنی موت آپ مر جاتی۔ اس میں کسی قسم کی کوئی زندگی نہیں۔ یہ صرف مسلمانوں کا احمقانہ شور و غل ہے جس نے اس کو غیر ضروری طور پر زندہ کر دیا۔ (صفحہ ۷۰) واقعہ یہ ہے کہ سب وشتم اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسلام اور پیغمبر اسلام پر ایک اعتراض ہے۔ اور جو شخص اسلام اور پیغمبر اسلام پر اعتراض کرے اس کی زیادہ بڑی سزا یہ ہے کہ اس کی بات کو دلیل کے ذریعہ رد کر دیا جائے۔ اس کو گولی مارنا اگر اس کا جسمانی قتل ہے تو اس کے اعتراض کو رد کرنا اس کا ذہنی قتل ۔ اور جسمانی قتل کے مقابلہ میں ذہنی قتل بلاشبہ زیادہ سخت ہے اور زیادہ کارگر بھی (صفحہ ۷۸) حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب فتویٰ دینے والوں کی غیر عاقلانہ روش کا تجزیہ ہے، وہ کسی بھی درجہ میں سلمان رشدی کی مدافعت یا حمایت نہیں۔

۷۔ راقم الحروف کی کتاب "شتم رسول کا مسئلہ"، ‘‘۲۰۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کا ذیلی ٹائٹل ان الفاظ میں دیا گیا ہے ـــ قرآن و حدیث اور فقہ و تاریخ کی روشنی میں ۔ راقم الحروف نے یہ کتاب لمبی تحقیق کے بعد مرتب کی ہے ۔ ایک تعلیم یافتہ شخص نے اس کتاب کو پڑھنے کے بعد ان الفاظ میں اس پر تبصرہ کیا کہ یہ کتاب سلمان رشدی (یا اس کے جیسے دوسرے افراد) کا گویا علمی ذبیحہ ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس کتاب کی اہم ترین خصوصیت یہ ہے کہ اس میں وقت کے مسلم ہتھیا ر کو اسلام دشمنوں کے خلاف کامیابی کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے ۔ آج کا ذہن تشدد کے بجائے سائنٹفک دلیل کو وزن دیتا ہے اور آپ نے اسی وزن دار ہتھیار کو اسلام دشمن کے خلاف کامیابی کے ساتھ استعمال کیا ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی شخص اگر کھلے ذہن کے تحت اس کتاب کو پڑھے تو وہ اس تبصرہ سے اتفاق کرنے پر مجبور ہوگا۔ وہ کہے گا کہ کیسی عجیب بات ہے کہ اسلام دشمنوں کا جواب دینے کے لیے ہمارے پاس دلائل کا بم موجود ہے مگر ہم مناظروں اور فتوؤں کی کنکریاں ان کی طرف پھینک رہے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues

Printed page