Al-Risala · July 1998 · page 30

جھوٹ کی اشاعت

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۳۰

مذکورہ قسم کی ایک خبر کا چھپنا اور شائع ہونا کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کو پہلے ایک یا چند انسانوں نے سوچا اور لکھا۔ پھر وہ اخبار کے دفتر میں نیوز ایڈیٹر کے میز پر پہنچی۔ اس کے بعد کسی نے اس کی کتابت کی یا اس کو ٹائپ کیا۔ پھر کسے مصحح نے اس کو پڑھا اور پھر کسی سیٹ کرنے والے نے اس کو سٹ کیا۔ اس طرح یہ خبر بہت سی آنکھوں کے سامنے سے گزری جن میں سے ہر ایک بلا شبہ مسلمان تھا۔ ان تمام لوگوں میں سے کسی ایک شخص کو بھی اگر اس خبر کے بارے میں کھٹک پیدا ہوتی تو وہ اس کو روک دیتا یا رقم الحروف کے دفتر میں ٹیلی فون کر کے تحقیق کرتا۔ مگر اس خبر کا چھپ کر شائع ہو جانا بتاتا ہے کہ ان بہت سے مسلمانوں میں سے کسی ایک کو بھی اس کے بارے میں کھٹک پیدا نہیں ہوئی۔ یہاں تک کہ خبر آخری انجام تک پہنچ گئی۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ مسلم معاشرہ کی اخلاقی حساسیت کا عالم کیا ہے۔ اس معاشرہ میں وہ مزاج غالب ہے جس کو قرآن میں اشاعت فاحشہ (النور۱۹) کا مزاج کہا گیا ہے۔ ایسے معاشرہ پر سوء ظن کا مزاج اتنا زیادہ غالب ہو جاتا ہے کہ حسن ظن کے بارہ میں وہ اپنی حساسیت کھو دیتا ہے۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ حسن ظن اور سوء ظن کے درمیان زیادہ فرق نہیں کرتے۔ وہ جھوٹی خبر کو بھی اسی طرح بیان کرنے لگتے ہیں جس طرح سچی خبر کو۔ وہ الزام تراشی اور بیان واقع کو یکساں درجہ دیتے ہیں، حالانکہ ان میں سے ایک جائز ہے اور دوسرا نا جائز۔

اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب وہ کسی کے بارہ میں کوئی بری بات سنتے ہیں تو بلا تحقیق اس کو درست مان لیتے ہیں اور اس کو پھیلانا شروع کر دیتے ہیں۔ ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کا احساس نہ ہونے کی وجہ سے وہ غلط بات کی اشاعت بھی اسی طرح کرنے لگتے ہیں جس طرح صحیح بات کی اشاعت کی جانی چاہئے۔ تنقید کے وقت وہ الزام تراشی کی زبان بھی اسی طرح اطمینان کے ساتھ بولتے ہیں جیسے کہ دلیل اور ثبوت کی زبان بولی جاتی ہے۔

موجودہ مسلم معاشرہ بدقسمتی سے سوء ظن کا معاشرہ بن گیا ہے۔ اس لئے اب اس کا حال یہ ہے کہ سوء ظن کی بات فوراً اُس کے درمیان قبولیت کا درجہ حاصل کر لیتی ہے۔ اس کے برعکس حسن ظن کی بات کو قبول کرنا اس کے لئے سخت دشوار ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues

Printed page