دشمن اگر قوی است نگہباں قوی تراست
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۸، صفحہ ۳۷
ان سے میں نے کہا کہ اپنی زندگی کا کوئی تجربہ بتائیے۔ انھوں نے کہا کہ ”ہم کو صرف معیاری آدمی پسند ہے، غیر معیاری آدمی سے ہم ہاتھ بھی نہیں ملاتے۔ “ مجھے اس پر حیرت ہوئی کہ ان کو مجھ سے پوری واقفیت تھی۔ وہ میری تمام تحریریں پڑھے ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ آپ کے مخالفین بہت ہیں۔ مگر خدا آپ کے ساتھ ہے۔ یہ کہہ کر انھوں نے یہ شعر پڑھا :
دشمن اگر قوی است نگہباں قوی تراست
ایک صاحب نے پوچھا کہ یہاں رواج ہے کہ جب کسی غیر مسلم کا جنازہ گزرتا ہے تو مسلمان اس کو دیکھ کر کہتے ہیں : فی النار والسقر۔ اس کے بارہ میں آپ کی کیا رائے ہے۔ میں نے کہا کہ ایسا کہنا سخت گناہ ہے۔ کیوں کہ یہ خدا کے کام کو اپنے ہاتھ میں لینا ہے۔ آخرت کا انجام تمام تر خدا کے اختیار میں ہے، اور خدا نے ہمیں یہ منصب نہیں دیا ہے کہ ہم یہاں اس کے فیصلہ کا اعلان کریں۔
پھر میں نے کہا کہ تمام باتوں کو جانچنے کے لیے صرف ایک ہی صحیح کسوٹی ہے۔ اور وہ رسول اور اصحاب رسول کی کسوٹی ہے۔ جب بھی کسی بات کا شرعی حکم معلوم کرنا ہو تو رسول اور اصحاب رسول کے زمانہ کو دیکھئے۔ اگر وہاں اس کی مثال موجود ہے تو وہ درست ہے، ورنہ وہ سراسر گمراہی ہے۔
۱۹۸۰ء کے تلخ تجربہ نے مراد آباد کے مسلمانوں کو بالکل بدل دیا ہے۔ اب وہ بھڑکنے والی باتوں کو نظر انداز کرنا سیکھ گئے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ۴ مارچ ۱۹۹۶ء کو ہولی کا دن تھا۔ ہند و حسب معمول رنگ کی ہولی کھیل رہے تھے۔ اس دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو بھیانک فساد بننے کے لیے کافی تھا۔ مگر نظر انداز کرنے کی پالیسی نے اس کو پہلے ہی مرحلہ میں ڈیفیوز کردیا۔ برتن بازار (مراد آباد) میں عطری کی ایک دکان ہے جس کا نام نشاط پرفیومری ہے۔ وہ ۱۹۱۵ء میں قائم ہوئی۔ اس کے موجودہ مالک جناب منصور احمد صاحب ہیں۔ ۱۰ مارچ کو میں نے خود جاکر یہ دکان دیکھی۔ ہولی کے دن ایسا ہوا کہ رنگ سے بھری ہوئی ایک پوری بالٹی ایک ہندو نوجوان نے پھینکی جس سے دکان کا فرش اور تمام چیزیں رنگین ہو گئیں۔ دکان پر بیٹھا ہوا نوجوان
‹ Previous page Next page › Contents of January 1998 All issues