Al-Risala · July 1998 · page 32

سفر نامہ امریکہ

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۳۲

کی تاریخ تھی اور لوکل ٹائم کے لحاظ سے صبح ۵ بجے کا وقت تھا۔ ایر پورٹ پر فجر کی نماز ادا کی ۔ ضروریات کے لیے میں معذوروں کے ٹائلٹ میں چلا گیا ۔ وہ نہایت کشادہ اور نہایت مکمل اور نہایت صاف ستھرا تھا۔ میں نے سوچا کہ یہ بھی اسلامی تصورحیات کاایک اظہار ہے۔ قرآن میں ہے کہ وفی اموالهم حق معلوم للسائل والمحروم (الذاریات 19) اس آیت میں "معلوم" کا ایک مطلب ہے شریعت کے ذریعہ معلوم حق۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دینے والا محروم کی ضرور توں کو جان کر خود یہ طے کرے کہ کس چیز کی اسے ضرورت ہے۔ وہ اس کی ضرورتوں کو بطور خود جان کر اس کے مطابق اس کا اہتمام و انتظام کریں۔ موجودہ ترقی یافتہ ملکوں میں معذوروں کے لیے جو اہتمام کیا جاتا ہے وہ اس کی ایک کامیاب مثال ہے۔

لندن ایر پورٹ کی ایک ایک چیز دہلی کے انٹرنیشنل ایر پورٹ سے بہت زیادہ بہتر دکھائی دی ۔ اس فرق کا مطلب یہ سمجھ میں آیا کہ ہندوستان میں جن لوگوں کے ہاتھ میں اقتدار آیا وہ پیسہ پرستی کا مزاج رکھتے تھے ۔ وہ پیسہ کو سب کچھ سمجھتے تھے۔ چنانچہ انھوں نے ملے ہوئے اقتدار کو پیسہ لوٹنے کے لیے استعمال کیا۔ اس کے برعکس مغربی ملکوں میں معیار پرستی کا مزاج تھا۔ اس لیے یہاں کے حکمرانوں نے اپنے قومی معیار کو بلند کیا۔ لندن سے نیویارک کے لیے برٹش ایرویز کی فلائٹ ، اا کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ جس وقت جہاز تیزی کے ساتھ پرواز کر رہا تھا، میرے دل میں آیا کہ وہ لمحہ بہ لمحہ دہلی سے دور نیویارک سے قریب ہو رہا ہے۔ یہی حال خود انسان کا ہے۔ انسانی زندگی ایک مسلسل سفر ہے ۔ اور ہر انسان لمحہ بہ لمحہ دنیا سے دور اور آخرت سے قریب ہوتا جا رہا ہے ۔ سفر کے دوران جہاز میں مسافروں کی تفریح کے لیے فلمیں دکھائی جارہی تھیں۔ لوگ ہیڈ ایڈ لگائے ہوئے اس کو دیکھ رہے تھے۔ کبھی کبھی میری نظر بھی پڑ جاتی تھی۔ ایک بار قدرتی مناظر دکھائے گئے۔ یہ نہایت خوب صورت تھے، میں ان کو دیکھتا رہا۔ میں نے سوچا کہ فطرت کے حسن کی صورت میں خدا نے اس دنیا میں جنت کا تعارف رکھ دیا ہے۔ البتہ دو چیزوں کا تجربہ انسان کو صرف آخرت میں ہوگا۔ وہ ہے ایک ایسی زندگی جس

‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues

Printed page