Al-Risala · July 1998 · page 33

سفر نامہ امریکہ

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۳۳

میں حال کی تکلیف اور مستقبل کا اندیشہ شامل نہ ہو (لا خوف علیہم ولا ھم یحزنون) یہ باتیں سوچتے ہوئے جنت کے بارہ میں ایک عجیب خیال ذہن میں آیا۔ میں نے سوچا کہ جنت ایک نفیس ترین کائناتی معاشرہ ہے۔ خدا اور فرشتوں، پیغمبروں اور صالحین کا معاشرہ۔ جنتی انسان اس آفاقی معاشرہ میں رہے گا۔ وہاں نہ حال کا کوئی غم ہوگا اور نہ مستقبل کے بارے میں کوئی خوف ۔

لندن سے نیویارک کی پرواز ساڑھے چھ گھنٹہ کی تھی۔ وقت پر جہاز پہنچ گیا۔ تاہم ایرپورٹ کے مراحل سے گزرنے میں دیر لگی ۔ کیوں کہ امریکی جہاز (TWA) کے حادثہ کے بعد چیکنگ زیادہ سخت ہوگئی ہے ۔ عام ایرپورٹس پر ٹرالی مفت ہوتی ہے۔ مگر امریکہ میں ٹرالی لینے کے لیے ڈیڑھ ڈالر ادا کرنا پڑتا ہے ۔ میرے پاس ۵۰ پنس کا سکہ نہیں تھا۔ مشین میں ایک ڈالر کا نوٹ ڈالا تو اس میں سے فوراً سکہ نکل آیا۔ کتابوں کے دو بنڈل کے لیے مجھے ٹرالی لیناپڑا۔ یہ یہ کتابیں جناب خواجہ کلیم الدین کی فرمائش پر ساتھ لایا تھا۔ ایرپورٹ سے باہر آیا تو خواجہ کلیم الدین صاحب ، شاہد تاکلی والا صاحب اور خواجہ صاحب کے صاحبزادے وغیرہ موجود تھے۔ شاہد تاکلی والا یہاں ریسرچ کے ایک ادارہ میں کام کرتے ہیں۔ ان کا کام یہ ہے کہ سائنسی طریقہ سے لیمٹ کی جانچ (limit test) کریں۔ دواؤں میں مضر اجزاء مثلاً جست (lead) ڈالا جاتا ہے۔ مگر اس کی ایک حد ہے۔ اگر وہ ملین یا بلین میں ایک حصہ کے بقدر زیادہ ہو تب بھی مشینی جانچ میں اس کا پتہ چل جاتا ہے۔ یہ انسانی طریقہ ہے جو کسی چیز میں ملاوٹ کی اتنی زیادہ کامیاب جانچ کر سکتا ہے۔ پھر خدا کے یہاں نیتوں کو جانچنے کے لیے جو نظام ہوگا وہ کتنی زیادہ گہرائی کے ساتھ نیتوں کے کھوٹ کو معلوم کر لے گا۔ اس بات کو سوچ کر جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ شاہد تاکلی والا صاحب نے بتایا کہ پہلے ملین میں ایک (PPM) کی جانچ ممکن ہوتی تھی ۔ اب ٹریلین میں ایک حصہ (PPT) کی جانچ ممکن ہوگئی ہے۔

شاہد تاکلی والا سے میں نے پوچھا کہ امریکہ کی ترقی کا پلس پوائنٹ اور مائنس پوائنٹ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان لوگوں کا پلس پوائنٹ تو یہ ہے کہ وہ تنقید کو نہ صرف یہ کہ

‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues

Printed page