Al-Risala · July 1998 · page 34

Life is just a fun.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۳۴

برا نہیں مانتے، بلکہ اس کو ویلکم کرتے ہیں۔ اس طرح ان لوگوں کا فکری ارتقاء مسلسل جاری رہتا ہے۔ اور ان کا مائنس پوائنٹ یہ ہے کہ وہ زندگی کے بارے میں زیادہ سنجیدہ نہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ زندگی تو بس ایک کھیل تماشاہے :

Life is just a fun.

نیویارک میں میرا پہلا قیام خواجہ کلیم الدین صاحب کے مکان پر تھا۔ تھا۔ عشاء کی نماز کے بعد گھر کے تمام لوگ ایک کمرہ میں اکٹھا ہوئے۔ ان کی خواہش تھی کہ میں انھیں کچھ دین کی باتیں بتاؤں۔ تقریباً ایک گھنٹہ تک یہ مجلس رہی، نئی جنریشن کی رعایت سے میں نے انگریزی میں گفت گو کی۔ آخر میں سوال و جواب ہوا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ اسلام اپنے احکام کے اعتبار سے ایک واحد مجموعہ ہے۔ مگر انطباق کے اعتبار سے اس کے تین مرحلے ہیں۔ اور پھر اس کے کئی مرحلے بن جاتے ہیں اور بنتے رہیں گے۔

۲۲ اگست کی صبح کو فجر کے بعد خواجہ کلیم الدین صاحب کے ساتھ نیویارک میں ٹہلنے کے لیے نکلا۔ ہم لوگوں نے تقریباً دو کلومیٹر کا چکر لگایا۔ یہ علاقہ جس سے ہم لوگ گزرے وہ ایک یہودی علاقہ تھا۔ ہر گھر اور اس کا ماحول نہایت صاف ستھرا نظر آیا۔ معلوم ہوا کہ یہودی علاقوں کے مکان نسبتاً مہنگے ہوتے ہیں۔ کیوں کہ وہ صاف ستھرے علاقہ میں ہوتے ہیں اور اس بنا پر ان کا ٹیکس بھی زیادہ ہوتا ہے۔

امریکہ کے جس شہر میں بھی میں گیا۔ ہر جگہ میں نے پایا کہ فٹ پاتھ نہایت اچھی حالت میں ہیں۔ کہیں بھی ہندوستانی شہروں جیسے نا ہموار فٹ پاتھ دکھائی نہیں دیے۔ کلیم الدین صاحب نے بتایا کہ اس معاملہ میں یہاں سخت قوانین ہیں۔ اور فٹ پاتھ کو بنانے اور اس کو درست رکھنے کی ذمہ داری سامنے والے گھر کی ہوتی ہے۔ اگر فٹ پاتھ ٹوٹا ہوا یا ہموار نہ ہو اور کوئی راہ گیر وہاں چلتا ہوا پھسل کر یا ٹھوکر کھا کر گر جائے اور اس کو جسمانی تکلیف پہنچ جائے تو فوراً وہ عدالت میں مقدمہ (sue) کر دے گا۔ اور پھر گھر والوں کو بہت ہنگامہ معاویضہ اس کو دینا پڑے گا۔ اس بنا پر گھر والے فٹ پاتھ کو درست

‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues

Printed page