Life is just a fun.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۳۵
رکھنے کے معاملہ میں بہت مستعد رہتے ہیں۔
ٹہلتے ہوئے ایک جگہ سڑک کے کنارے ریلوے ویگن کی مانند ایک گاڑی نظر آئی جس میں کوڑا بھرا ہوا تھا۔ معلوم ہوا کہ یہاں قاعدہ ہے کہ کوئی شخص گھر کی تعمیر یا مرمت کرا رہا ہو تو اس کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اس قسم کا ویگن کمپنی سے کرایہ پر حاصل کرے ۔ اس کو ڈمپسٹر (dumpster) کہا جاتا ہے ۔ سارا ملبہ اس کے اندر رکھ دیا جاتا ہے۔ اور جب وہ بھر جاتا ہے تو اس کو کمپنی والے اٹھا لے جاتے ہیں۔ پھر اس کو خالی کرنے کے بعد اسے لا کر دوبارہ اسی مقام پر کھڑا کر دیتے ہیں۔ اگر کوئی شخص گھر کا ملبہ سڑک پر لا کر ڈال دے تو اس کو بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑے گا ۔ وغیرہ ۔
ایک بار میں کلیم الدین صاحب کے ساتھ تھا۔ ہم لوگوں نے ایک لفٹ استعمال کی۔ اس کا دروازہ باہر کی طرف کھلتا تھا۔ لفٹ رُکی تو کلیم الدین صاحب نے دروازہ کھولا۔ اتفاق سے باہر کی طرف ایک سفید فام نوجوان کھڑا ہوا تھا۔ چنانچہ لفٹ کا دروازہ اس سے ٹکراگیا۔ کلیم کلیم الدین صاحب نے کہا کہ معاف کیجئے (sorry) اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ کوئی بات نہیں (no problem) اور فوراً بات ختم ہو گئی۔
یہ مغربی کلچر ہے۔ بڑے سے بڑا مسئلہ بھی یہاں اسی طرح دو لفظوں میں ختم ہو جاتا ہے۔ برصغیر ہند میں جو رہنما اُٹھے، مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انھیں روایات کی اہمیت ہی معلوم نہ تھی۔ وہ صرف آزادی اور غلامی، حاکمیت اور محکومیت کی اصطلاحوں میں سوچنا جانتے تھے ۔ اس لیے وہ صرف اس قسم کی باتوں پر جذبہ باقی دھوم مچاتے رہے۔ خواہ اس کے نتیجہ میں ساری روایتیں ٹوٹ جائیں۔
کوئی سماج سب سے زیادہ جس چیز پر چلتا ہے وہ صحت مند روایات ہیں مگر غالباً ان رہنماؤں کو نہ تو روایات کی اہمیت معلوم تھی اور نہ انھوں نے ایسی روایت کو قائم کرنے کی کوشش کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج برصغیر میں تین آزاد ملک بن گئے ہیں۔ مگر صحت مند روایات سے تینوں محروم ہیں۔ اس محرومی اور تباہی کی آخری حدیہ ہے کہ ان آزاد ملکوں کے لوگ دوبارہ اپنے سابق حکمرانوں کے دیس میں بھاگ بھاگ کر پہنچ رہے ہیں ۔ دہلی
‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues