Al-Risala · July 1998 · page 36

Life is just a fun.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۳۶

میں میرا ویزا لینے کے لیے جو صاحب امریکی سفارت خانہ گئے، ان کو وہاں کھڑکی کے سامنے چار گھنٹہ تک کھڑا رہنا پڑا۔ کیوں کہ وہاں سڑک تک لمبی لائن لگی ہوئی تھی ۔ ایک پاکستانی بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ اس کفرستان میں ہم اسلام کا جھنڈا بلند کرنے کے لیے آئے ہیں ۔ میں نے کہا کہ برصغیر ہند کے ’’کفرستان‘‘ میں آپ کو یہی موقع زیادہ بہتر طور پر حاصل تھا۔ وہاں تو آپ نے یہ کام نہیں کیا بلکہ تقسیم کرکے اپنے اور اس کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر لی ۔ اور اب آپ نصف کرۂ ارض طہ کر کے اس مقصد کے لیے یہاں آئے ہیں، یہ کیسا عجیب ہے۔

فلا ڈلفیا میں ایک کتاب دیکھی ۔ ۲۸۰ صفحہ کی یہ کتاب اسلامک کونسل آف یورپ (لندن) سے ۱۹۰۶ میں شائع کی گئی ہے ۔ اس میں مختلف ممتاز شخصیتوں کے مضامین ہیں۔ اس کا نام ہے :

Islam: Its Meaning and Message اس کے ایک مضمون میں کہا گیا تھا کہ :

Contemporary Muslims should be realist enough to understand that they must begin their journey from where they are. A famous Chinese proverb asserts that the journey of a thousand miles begins with a single step. (p. 237)

یہ نہایت درست بات ہے کہ مسلمان جہاں بالفعل ہیں وہیں سے وہ اپنا سفر شروع کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ کتاب کو پڑھیں تو اس سے واضح طور پر آپ معلوم نہیں کر سکتے کہ وہ پہلا قدم کیا ہے جو مسلمانوں کو اپنی موجودہ حالت کے اعتبار سے اٹھانا چاہیے ۔ بدقسمتی سے موجودہ زمانہ میں لکھی جانے والی اکثر کتابوں کا حال یہی ہے ۔ ۲۲ اگست کو دوپہر بعد ہم لوگ نیویارک کا ورلڈ ٹریڈ سنٹر دیکھنے کے لیے نکلے۔ رہائش گاہ سے ٹریڈ سنٹر تک کا سفر زمین دوز ٹرین کے ذریعہ کیا گیا۔ اس کو یہاں سب وے کہا جاتا ہے اور لندن میں اس کا نام ٹیوب ہے۔ یہاں کی زمین دوز ٹرین دنیا میں سب سے زیادہ قدیم ہے۔ اس کو (rapid transit) بھی کہا جاتا ہے ۔ کیوں کہ وہ کار سے بھی زیادہ کم وقت میں

‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues

Printed page