Life is just a fun.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۳۸
پر مشتمل تھا۔ کہیں ایک سفید فام شخص اپنے لہجے میں "شہادة" ادا کر کے اسلام میں داخل ہو رہا ہے۔ کہیں اسلام کے تعارف پر کوئی نو مسلم تقریر کر رہا ہے۔ کہیں بہت سے نو مسلم بتا رہے ہیں کہ میں کیسے اسلام میں داخل ہوا۔ کہیں کوئی اپنے مخصوص لہجے میں اللہ اکبر اللہ اکبر کہہ کر اذان دے رہا ہے۔ کہیں کوئی کہہ رہا ہے کہ ان شاء اللہ ۲۰۰ تک امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد یہودیوں سے بڑھ جائے گی۔
اس کو دیکھتے ہوئے بے اختیار میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میں نے کہا کہ یہ ایک دعوہ اکسپلوزن ہے جو براہ راست خدا کی مدد سے ہو رہا ہے۔ موجودہ دور میں اللہ تعالیٰ نے مذہبی آزادی، کمیونی کیشن اور دوسرے موافق ذرائع پیدا کیے۔ یہ اس لیے تھے کہ مسلمان ان کو استعمال کر کے سارے عالم تک اللہ کا پیغام پہنچا دیں۔ مگر مسلمان اس میں ناکام ہو گئے۔ ان میں جو لوگ "دعوت" کے نام پر کام کرنے کے لیے اٹھے وہ بھی قومی نفرت، اور سیاسی سوچ کی بنا پر صحیح دعوتی اسلوب میں دعوت کو پیش کرنے کا کام نہیں کر رہے تھے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے خود امریکیوں اور دوسری غیر مسلم قوموں میں اسلام کو داخل کر دیا۔ یہ لوگ صاف ذہن کے تھے، چنانچہ انھوں نے اب زیادہ صحیح اسلوب میں دعوت کا کام شروع کر دیا ہے۔
اس قسم کے نو مسلم داعی آج کل بہت سے پیدا ہو گئے ہیں۔ مثال کے طور پر برطانیہ میں یوسف اسلام، امریکہ میں پروفیلیر لنگ (Jeffry Lang) اور امینہ السلمی (Ameena Assilmi) وغیرہ۔ امینہ السلمی پہلے ڈانسر تھیں۔ دس سال پہلے انھوں نے اسلام قبول کیا، اب وہ بوڑھی ہو چکی ہیں۔ میں نے ویڈیو کے ذریعہ نیویارک میں ان کی تقریر سنی۔ تقریر کا انداز بہت جاذب تھا۔
۲۳؍اگست اگست کی صبح کو ہم لوگ مکی مسجد میں گئے اور وہاں فجر کی نماز پڑھی۔ جماعت میں تقریباً ۳۵ آدمی تھے۔ بیشتر پاکستانی اور بنگلہ دیشی دکھائی دیے۔ میں نے سوچا کہ پاکستانی اور بنگلہ دیشی مسلمان "مسلم لینڈ" میں باہم مل کر نہ رہ سکے۔ اور یہاں غیر مسلم لینڈ" میں دونوں مل کر پر امن طور پر رہ رہے ہیں۔ کیسا عجیب ہے یہ اسلام اور کیسی عجیب ہے یہ اسلامی سیاست۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues