Al-Risala · July 1998 · page 39

Life is just a fun.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۳۹

امریکہ کے شہروں میں گاڑی کو پارک کرنا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ نیو یارک کی انتظامیہ نے استثنائی طور پر مسجد کے نمازیوں کو اجازت دی ہے کہ وہ نماز کے دوران دو گھنٹہ تک سامنے کی سڑک پر ڈبل پارکنگ کر سکتے ہیں ۔ حالاں کہ یہاں ڈبل پارکنگ سخت جرم ہے اور اس کے لیے بہت بڑا جرمانہ ہوتا ہے ۔ اسی طرح جمعہ کے دن خصوصی طور پر اجازت دی گئی ہے کہ مسجد کے سامنے فٹ پاتھ پر نماز پڑھی جا سکتی ہے ۔ اس طرح کی مختلف رعایتیں یہاں کے مسلمانوں کو حاصل ہیں۔ حالاں کہ نیو یارک کا میئر ایک یہودی ہے، اور کہا جاتا ہے کہ وہ کٹر یہودی ہے۔

ایک مجلس میں ایک پاکستانی بزرگ نے سوال کیا کہ پاکستانی مہاجرین کی حالت زار کیوں ہے ۔ جب کہ ہندوستان میں شر نارٹھیوں کا کوئی مسئلہ نہیں۔ میں نے کہا کہ آپ حقیقت سننا چاہتے ہیں یا آپ کو اپنی پسند کا جواب چاہیے ۔ انھوں نے کہا کہ آپ کے نزدیک جو حقیقت ہو وہی بتائیے ۔ میں نے کہا کہ ہمارے مسلم لیڈروں نے سیاست بازی تو خوب کی مگر انھوں نے مسلمانوں کو جینا نہیں سکھایا ۔ ہماری موجودہ نسل اپنے لیڈروں کی اسی غلطی کی قیمت چکا رہی ہے۔ پھر میں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ پاکستان سے جو ہندو انڈیا میں گئے وہ اپنے کو شر نار تھی ( پناہ گزیں ) سمجھ کر گئے ۔ اپنے اس مزاج کی بنا پر وہ وہاں ایڈجسٹ کر کے رہنے لگے۔

اس کے برعکس ہندوستان سے جو مسلمان آئے وہ زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے ۱۹۴۷سے پہلے پاکستان کے نام پر دھوم مچائی تھی ۔ چنانچہ وہ اس ذہن کے ساتھ پاکستان گئے کہ ہم اس کے بانی ہیں، ہم فاتح پاکستان ہیں۔ اس بنا پر ان کے اندر برتری کی نفسیات بیدار ہو گئی۔ انھوں نے چاہا کہ وہ دوسروں کے اوپر بڑے بن کر رہیں۔ اسی مزاج نے سارے مسئلے پیدا کئے۔

امریکہ کے چیف آف آرمی اسٹاف کولن پاوِیل (Gen. Collin Powell) کا تعلق سیاہ فام طبقہ سے ہے۔ مگر اپنی صلاحیت کی بنا پر وہ ترقی کر کے اعلیٰ ترین فوجی عہدہ پر پہنچ گیا۔ ریٹائرڈ ہونے کے بعد مشہور ہوا کہ وہ صدارت کے عہدہ کے الیکشن میں کھڑا ہونا چاہتا

‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues

Printed page